حضرت محمدﷺ کی زندگی اسلامی آئیڈیل کی تعبیر کے لیے اتنی ہی اہم تھی جتنی آج ہے۔ آپﷺ کی زندگی نے دنیا میں خدا کی ناقابلِ جانچ فعالیت کو منکشف کیا اور کامل اطاعت (اسلام کا لفظی مطلب بھی اطاعت ہے) کی تصویر پیش کی جو ہر انسان کو معبود کے سامنے اختیار کرنی چاہیے۔ آنحضرتؐ کی زندگی میں ہی مسلمانوں نے آپؐ کی زندگی کا مفہوم سمجھنے اور اسے بطور مثال اپنانے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ آپؐ کی وفات سے کوئی ایک سو سال بعد، جب اسلام نئے علاقوں میں پھیلا اور نئے پیروکار حاصل کیے، مسلمان دانشوروں نے احادیث اور سنت کی روایات اکٹھی کرنا شروع کر دی تھیں۔ یہی روایات اسلامی شریعت کی بنیاد ہیں۔ سنت نے مسلمانوں کو حضرت محمدﷺ کے بات کرنے، کھانے، محبت کرنے، غسل کرنے اور عبادت کرنے کاانداز سکھایا تاکہ وہ اپنی روز مرہ زندگی میں ہر ممکن حد تک ان کی تقلید کریں اور خدا کے کامل اطاعت گزار بنیں۔

ایک راہنما شخصیت کے طور پر حضرت محمدﷺ کی حیات نہ صرف مسلمانوں بلکہ اہل مغرب کے لیے بھی اہم اسباق رکھتی ہے۔ آپؐ کی زندگی ایک جہاد یعنی جدوجہد تھی۔ آپﷺ نے جنگ زدہ عریبیہ میں امن قائم کرنے کی سخت کوشش کی، اور آج ہمیں یہ کام کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔ آپﷺ کی زندگی طمع، ناانصافی اور جہالت کے خلاف ایک بِلاتکان جدوجہد سے عبارت تھی۔ آپؐ نے محسوس کیا کہ عریبیہ ایک اہم موڑ مڑ رہا تھا اور سوچ کے پرانے انداز کافی نہیں رہے تھے، چنانچہ آپؐ خود میدانِ عمل میں اترے تاکہ ایک بالکل نیا حل وضع کر سکیں۔

حضرت محمدﷺ ایک بے زماں شخصیت بن گئے کیونکہ وہ اپنے عہد میں نہایت گہری جڑیں رکھتے تھے۔ ہم آپﷺ کی کامیابی کو تبھی سمجھ سکتے ہیں جب یہ جان لیں کہ آپؐ کس چیز کے خلاف تھے۔ اپنی موجودہ حالت میں آپؐ کی حصہ داری دیکھنے کی خاطر ہمیں اس المناک دنیا میں داخل ہونا ہوگا جس میں وہ کوئی چودہ سو سال قبل پیغمبرؐ اسلام معبوث ہوئے۔