انسان کی کائنات میں موت بھی زندگی جتناہی ایک عام اور ہمہ گیر ’عمل‘ ہے۔ ماہرین نفسیات اور ڈاکٹر اِسے ایک واقعہ کی بجائے عمل قرار دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ نیوکلیئر بم میں مرنے والوں کی موت بھی یک دم واقع نہیں ہو جاتی۔ اگر نفسیاتی حوالے سے بات کی جائے تو یہ عمل اور بھی طویل، پوری زندگی پر بھی محیط ہو سکتا ہے۔

موت کو انسان نے ہمیشہ سے ایک ہی انداز میں نہیں لیا۔ اب عموماً موت کی وجہ معلوم ہوتی ہے، جبکہ پچاس برس پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ قبل ازیں موت اہل خانہ کے درمیان واقع ہوتی تھی، لیکن اب اکثر ہسپتال کے بستر پر ڈاکٹروں اور آلات کے درمیان آتی ہے۔ اِسی طرح آرٹ، فلسفہ، ادب، ثقافت وغیرہ میں بھی موت کا مفہوم اور اظہار بدل گیا ہے۔ بیسویں صدی کے آخری دو عشروں میں ایکشن فلموں نے موت کو ایک زیادہ رومانٹک اور شان دار انداز دیا؛ مگر بنیادی فلسفہ کافی حد تک وہی ہے: کہ گناہ یا جرم ہی موت تک پہنچاتا ہے، یا پھر نیک مقصد کی خاطر موت قبول کرنا احسن ہے۔ اِن دونوں تصورات کے ڈانڈے ہمارے ماضی بعید کی داستانوں اور قصوں سے جا ملتے ہیں۔ یہ قصے کسی نے کسی صورت میں ہمارے شعور اور لاشعور کا حصہ ہیں۔

زیر نظر کتاب کے پہلے حصے میں موت کے مختلف تصورات اور نظریات کا مختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ دوسرا حصہ نفسیاتی تحقیقات اور بحثوں پر مشتمل ہے۔ تیسرے حصے میں ادب اور آرٹ میں موت کی تصویر کشی پر مختصر مضامین شامل ہیں، جبکہ چوتھا حصہ ایک سائنس دان کی موت کے مراحل کی خود نوشتہ کہانی اور موت کے متعلق اہم لوگوں کی آرأ پر مبنی ہے۔