فرشتوں کا تصور ہماری روز مرہ زبان، ضرب الامثال، محاوروں اور شاعری کے علاوہ آرٹ میں بھی موجو ہے، لیکن اردو زبان میں ان کے حوالے سے کوئی جامع تحریر موجود نہیں۔ تینوں بڑے وحدانیت پرست مذاہب (اور بالخصوص اسلام) میں ملائکہ خدا کے قاصد ہونے کے ناتے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں – آسمان پر بیٹھے خدا اور زمین پر بسنے والے انسانوں کے درمیان فرشتے ہی واحد وسیلہ ہیں۔ وہ مختلف مذہبی تجربات – رویا، مکاشفات، خوابوں، معجزات، کرشمات، غیبی امداد کے واقعات – کی بہت سی کہانیوں اور الف لیلہ و لیلہ کے علاوہ اولیا کے قصوں میں بھی ملتے ہیں۔ ہم نے تمام ایسی نیم الوہی-نیم انسانی لطیف ’’ہستیوں‘‘ کو فرشتوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں بطور تصور ترقی و مقبولیت پائی۔

یہ کتاب ’’مابعدالطبیعیاتی سیریز‘‘ کی ایک اور کڑی ہے۔ ادارہ اس سے قبل ’’خدا کی تاریخ،‘‘ ’’روح کی تاریخ،‘‘ ’’شیطان کی تاریخ،‘‘ ’’موت کی تاریخ،‘‘ ’’جادو کی تاریخ‘‘ اور ’’پراسرار واقعات کا انسائیکلوپیڈیا‘‘ شائع ہو چکی ہیں۔ ’’حیات بعد الموت‘‘ اور ’’جنت و دوزخ کی تاریخ‘‘ زیر طبع ہیں۔ میرا مقصد مابعدالطبیعیاتی تصورات کو تاریخ و تہذیب کی روشنی میں پرکھنا اور پیش کرتا ہے تاکہ موافقتوں اور تضادات کے علاوہ سیاسی و ثقافتی اثرات کو واضح کیا جا سکے۔