یہ کتاب حضرت ابراہیمؑ کی اسطوریاتی اور ممکنہ تاریخی شخصیت کو کھوجنے کی ایک تحقیقی، دانشورانہ، صحافیانہ اور سیاحتی کوشش ہے۔ اس شخصیت کے ذریعے دنیا کے تینوں بڑے وحدانیت پرست مذاہب — یہودیت، عیسائیت اور اسلام — کے مشترکہ منابع کھوجنے، ان مذاہب میں ابرہام یا ابراہیم کی بدلتی ہوئی شناختوں کا موازنہ و تجزیہ کرنے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی بنیاد پر مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کو کتاب کا بنیادی مقصد قرار دیا جا سکتا ہے۔

حضرت ابراہیم ؑ ایسی شخصیت ہیں جو تینوں مذاہب میں ایک مثالی اور اساسی حیثیت اختیار کر گئے اور تفاسیر و کہانیوں کے ذریعے انہوں نے مختلف سیاسی حالات میں اپنے ماننے والوں کی خواہشات کے مطابق مختلف روپ دھارے۔ ان کے دو بیٹے حضرت اسحق اور حضرت اسمٰعیل بالترتیب دو بڑی قوموں یہودیوں اور عربوں کے جد امجد ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ اور ان سے متعلقہ کہانیوں اور روایات کے بغیر یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا موجودہ روپ تصور میں نہیں لایا جا سکتا۔ اس قدر اساسی حیثیت کا حامل ہونے کے باوجود حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر مذہبی صحائف سے علاوہ کسی تاریخ ماخذ میں نہیں ملتا۔ حتیٰ کہ ان کا عہد (2000 تا 1700 قبل مسیح) بھی متعین نہیں۔

مصنف نے تینوں مذاہب میں ابراہیمؑ، اسحق اور اسمٰعیل سے متعلق کہانیوں پر بحث اور ان کا تجزیہ کرنے کے ذریعے یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ادبی، علامتی، افسانوی، تعبیری، تفسیری اور سیاسی سطح پر بھی حضرت ابراہیم ؑ کی شخصیت اور اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے جنہوں نے تاریخ کے دوران اُن کی اولادوں میں مختلف رجحانات پیدا کیے یا پھر ان رجحانات کا جواز فراہم کیا۔