قرونِ وسطیٰ کی اسلامی دنیا میں سائنس (جسے غیر درست طور پر اسلامی سائنس یا عرب سائنس بھی کہا جاتا ہے) کو اسلامی عہدِ زریں یعنی آٹھویں تا چودھویں صدی عیسوی کے دوران اسلام دنیا میں پروان چڑھایا گیا۔ اس عہد میں محققین نے ہندوستانی، اشوری، ایرانی اور یونانی علم کا عربی میں ترجمہ کیا۔ یہ تراجم مسلمانوں کے زیرِ نگیں علاقوں سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں کی تحقیقات کا سرچشمہ بن گئے۔مسلمانوں کے علاقوں میں سائنس دان مختلف النوع نسلی پس منظر رکھتے تھے،جیسے فارسی، عرب، اشوری، کُرد اور مصری۔

اسلامی عہد زریں میں مستحکم سیاسی نظام قائم ہوئے اور تجارت نے فروغ پایا۔ چینی لوگ تجارت میں ایک انقلابی عمل سے گزر رہے تھے اور اسلامی ممالک اور چین کے درمیان زمینی و بحری تجارتی راستوں کو مقبولیت مل رہی تھی۔ اسلامی تہذیب بدستور جزواً زراعت پر ہی مبنی تھی، لیکن جب خلفا نے سلطنت میں امن قائم کر دیا تو تجارت کا کردار اہم ہوتا چلا گیا۔ عرب فتوحات سے قبل لوگوں کو تقسیم کرنے والی جنگیں اور ثقافتی حد بندیوں کی جگہ ایک نئی تہذیب نے لی جو رنگا رنگ نسلی و عقائدانہ پس منظر پر محیط تھی۔ اس نئی اسلامی تہذیب نے عربی زبان کو ثقافت کا آلۂ کار بنایا اور یہ تجارت و حکومت کی زبان بھی بن گئی۔

اس کتاب کا مقصد مسلمانوں کے زیر نگیں علاقوں میں پھلنے پھولنے اور عروج کو پہنچنے والی سائنسی روایت کا احاطہ مرکزی شخصیات کی روشنی میں کرنا ہے۔ متعدد سائنسی ذہن بہت متنوع اور کثیر الجہت تھے۔ مثلاً انہوں نے ریاضی، طب، فلکیات وغیرہ پر بیک وقت کام کیا۔ امید ہے کہ یہ معلوماتی اور ٹھوس جائزے پر مبنی کتاب قاری کو اسلامی عہدِ زریں کے نمائندوں سے متعارف کروائے گی۔

توقع ہے کہ اس کی بدولت مسحور کن مسلم شخصیات کے متعلق مزید جاننے کی خواہش پیدا ہو گی، اور ساتھ ساتھ اجتماعی انسانی علمی میراث میں مسلمانوں کی حصہ داری واضح ہو سکے گی