بہاولپور کی جدید تاریخ کے لیے مستند ترین کتب درج ذیل ہیں: (1)- ”تاریخِ مراد“ از سید مراد شاہ گردیزی، اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ اور 1866ء سے 1876ء تک بہاولپور کا چیف جج۔ یہ کتاب 1867-75ء میں لکھی گئی اور صرف مسودے کی شکل میں موجود ہے۔ اس کی بنیاد اصل مواد کے علاوہ دوسری کتاب پر ہے، یعنی (2)- ”جواہر عباسیہ“ از شیخ محمد اعظم، ریاست کا ایک درباری (اس کی کتاب 1809ء اور 1830ء کے درمیان لکھی گئی اور یہ بھی مسودے کی صورت میں ہے؛ (3)- ”مرأة دولت عباسیہ“ از دولت رام، بہاول خان دوم کا درباری، سن تصنیف 1800ء کے قریب۔ سر ایچ ایلیٹ نے ”تحفۃ الکرام“ کے متعلق اپنے بیان میں اس سے استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ سابقہ حکمرانوں کی سندوں کو بھی بنیاد بنایا گیا جو اب مخصوص خاندانوں کی زیر ملکیت ہیں۔ ان میں ”تاریخ احمد شاہی“ (مسودہ) کا بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ متعدد مذہبی تواریخ بھی ہیں، جیسے مان مبارک کے شیخ حکیم کے ملفوظات، پیر خالص کے ملفوظات اور اُچ کے بخاری و گیلانی مخدوموں کے ملفوظات۔ سمہ سٹہ کے صاحب السیر کے ملفوظات اور ”جواہر فریدی“ (طبع شدہ جلد) بھی تقریباً قطعی مذہبی ہیں۔ مہاران شریف کے قبلہ عالم کے ملفوظات مبارک خان اول اور بہاول خان دوم کے ادوار حکومت سے متعلق ہیں۔ البتہ مذہبی شخصیات کے یہ ملفوظات یا سوانحات کو پوری طرح سے جانچ اور پرکھا نہیں گیا ہے۔
اِس گزیٹیئر کی تیاری میں اِن سب ماخذوں سے استفادہ کیا گیا۔