انسائیکلوپیڈیا دستیاب اور مصدقہ معلومات و مباحث کو ایک جگہ پر ہر ممکن حد تک (معروضی انداز میں) پیش کرنے کا طریقہ ہے۔ یونانی زبان میں لفظ egkuklopaideia عمومی (egkuklios) اور تعلیم (paideia) کا مجموعہ ہے۔ درحقیقت انسائیکلوپیڈیا کا مقصد دنیا بھر کے علم کو اکٹھا کرنا، اپنے ارد گرد رہنے والے انسانوں کے لیے ایک منظم انداز دینا اور آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے۔ چنانچہ وقت گزرنے پر انسائیکلوپیڈیا پرانے یا متروک ہونے کے بجائے نئے کاموں کی بنیاد بنتے ہیں۔

اگرچہ علم کو مجموعی صورت میں پیش کرنے کا تصور ہزاروں برس پرانا ہے، لیکن یہ اصطلاح کسی کتاب کے عنوان میں پہلی بار 1541ء میں Joachimus Fortius Ringelbergius نے استعمال کی۔ لفظ ’’انسائیکلوپیڈیا بطور اسم پہلی بار کروشیا کے انسائیکلوپیڈسٹ Pavao Skalic نے استعمال کیا تھا۔ اس کے علاوہ فرانسوا رابلیس نے اپنی تصنیف ’’پینٹا گروئل‘‘ (1532ء) میں انسائیکلوپیڈیا کی اصطلاح برتی۔ انسائیکلوپیڈیا نے اپنی موجودہ شکل اٹھارہویں صدی میں اختیار کی۔ تاریخی طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ محققین اور دانشور انسائیکلوپیڈیا اور لغات تیار کرتے تھے۔ لیکن لغت اور انسائیکلوپیڈیا میں ایک بنیادی فرق ہے: وہ یہ کہ لغت میں الفاظ جبکہ انسائیکلوپیڈیا میں موضوعات اور مضامین شامل ہوتے ہیں۔ ان مضامین میں صرف مطلب بیان کرنے کے بجائے گہرائی میں جا کر تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔

کسی بھی انسائیکلوپیڈیا کے چار بنیادی لازمی عناصر ہوتے ہیں: موضوعات کا چناؤ، وسعت، حکمت عملی اور طریقہ کار۔ اس کی ایک عمدہ اور شاید اردو زبان میں پہلی مثال حال ہی میں سامنے آئی ہے۔ اردو بازار لاہور کے ادارے ’’الفیصل ناشران‘‘ نے سات ہزار سے زائد تصاویر اور بڑے سائز کے 2525 صفحات پر مشتمل ’’عالمی انسائیکلوپیڈیا شائع کیا ہے۔

’’عالمی انسائیکلوپیڈیا‘‘ کو تصوراتی طور پر پانچ دھاروں میں مجتمع کیا گیا:(1)تاریخی و جغرافیائی – سلطنتیں، انقلابات، تحریکیں، براعظم، سمندر، خطے، ممالک، مرکزی و تاریخی شہر؛ (2)-سائنسی- سائنسی نظریات، دریافتیں، کائناتی مظاہر، نظام شمسی، ایجادات، امراض، تحقیقات؛ (3)-فنی و ثقافتی- فنون، دستکاریاں، دساتیر، تیوہار، میلے، موسیقی، اساطیری کردار، مقدس ہستیاں؛ (4)-علمی و ادبی- عقائد، مذاہب، نظریات، مکاتب فکر، ادبی تحریکیں، تنقید، فنون لطیفہ؛ اور (5)-سوانحی-اوپر مذکور چاروں شعبوں میں نمایاں کام انجام دینے والے افراد کی زندگی کا حال (مثلاً بادشاہ، فاتحین، سائنس دان، گلوکار، اداکار، مذہبی قائدین، شاعر و ادیب، کھلاڑی، فلسفی، حکمران، ہیروز، مجاہدین آزادی اور سیاسی راہنما)۔

پہلا فوکس عالمی سطح کے واقعات، شخصیات، نظریات، اور ایجادات پر ہے جنہوں نے انسان کی زندگی کو متشکل کرنے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا۔ اس کے بعد جنوب مشرقی ایشیا اور برصغیر بالترتیب دوسرا اور تیسرا فوکس ہیں۔ ایڈیٹر یاسر جواد نے بریٹانیکا اور انکارٹا والے ہی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے پاکستان اور اس خطے کے تاریخی و جغرافیائی عناصر کو فوکس کے آخری مرحلے پر رکھا۔ یوں مائیکرو سے میکرو کے بجائے میکرو سے مائیکرو کی جانب آنے پر پیدا ہونے والی وسعت اس تصنیف میں جھلکتی ہے۔ عالمی انسائیکلوپیڈیا کے لیے اندراجات منتخب کرتے وقت دو تین ماخذوں سے استفادہ کیا گیا۔ پہلا ماخذ Macmillan کا انسائیکلوپیڈیا تھا۔ اس کے بعد انسائیکلوپیڈیا انکارٹا کافی مدد لی گئی جس میں معاصر ادیبوں، شاعروں اور اداکاروں کے علاوہ مختلف علوم اور ان کی ذیلی شاخوں کے اندراجات خاصے تفصیل سے ہیں۔ بریٹانیکا سے ایسے اندراجات کے لیے رجوع کیا گیا جو ہمارے خطے کے لحاظ سے اہم ہیں۔ البتہ بیشتر مواد بریٹانیکا اور انکارٹا پر ہی مبنی ہے۔ آخر میں 170 صفحات پر مشتمل کل 17000 اندراجات کا اشاریہ بھی دیا گیا ہے جو نہایت مفید اور قابل قدر ہے۔