’’انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم‘‘ادبی رجحانات، نظریات، ادیبوں کی سوانحات، اساطیری حوالوں اور اہم ادبی اصطلاحات کو ایک جگہ پیش کرنے کی کاوش ہے تاکہ ایک جائزہ اور تجزیہ ممکن ہو سکے اور عالمی ادب و ادیبوں کو ملکی ادب کے تناظر میں رکھ کر دیکھنے کے علاوہ اپنی زبان میں لکھے جا رہے ادب کی اجمالی قدر پیمائی کی جا سکے۔

ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ ہر قسم کے ادب اور ادیبوں و شاعروں کو ہر ممکن حد تک جگہ دی جائے۔ اس قسم کی کتابوں میں اکثر ’’اصول‘‘ یا ’’معیار‘‘ اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ مخصوص قسم کے لوگوں یا تخلیقات کو باہر رکھا جائے۔ اس کے برعکس ہم نے زیادہ سے زیادہ افراد کو شامل کرنے کی غرض سے یہ کسوٹی اختیار کی کہ ہر ایسے قلم کار کو جگہ دی جائے جس کی کم از کم دو کتب شائع ہو چکی ہوں، جو بطور شاعر یا ادیب شناخت رکھتا ہو اور چند دیگر شاعر یا ادیب اسے شامل کیے جانے کی تائید کریں۔ بہرحال یہ کوئی قطعی پیمانہ نہیں تھا، کیونکہ کچھ شاعر یا ادیب گہری شناخت رکھتے ہیں مگر ان کی بمشکل ایک کتاب شائع ہوئی ہے۔ دوسری طرف متعدد ادیبوں اور بالخصوص شعرا نے ذاتی خرچ پر یا پیشہ ورانہ اختیارات کی بدولت متعدد کتب شائع کروا رکھی ہیں۔ لہٰذا اوپر مذکور تینوں اصول (دو نگارشات، شناخت اور دیگر اہل قلم کی تائید) ہمارے پیش نظر رہے۔ بہر حال ہم نے کوشش کی ہے کہ ایسے تمام جانے پہچانے اہل قلم حضرات کو جگہ دے دی جائے جن کے کوائف دستیاب ہو سکے یا انھوں نے خود بھجوائے۔ ان کی اہمیت یا وقعت کا تعین نہایت لطیف الفاظ میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کسی شاعر یا ادیب کے متعلق مضمون کی طوالت اس کی اہمیت یا ادبی بڑائی کا مظہر نہیں۔ کچھ اہم شخصیات کی زندگی کی تفصیل نسبتاً حالیہ دور کے ادیبوں کے مقابلے میں کم دستیاب ہے۔

بالخصوص انسائیکلوپیڈیا ادبیات عالم کے حصہ دوم میں کوئی تنقیدی رائے یا تجزیہ پیش کرنے سے ہر ممکن حد تک اجتناب کیا گیا ہے۔ یہاں مقصود معلومات دینا ہے، نہ کہ قدر پیمائی۔ اگر تنقیدی کسوٹی استعمال کی جاتی تو یہ کام ادبی دھڑے بندی کی نذر ہو جاتا اور سرکاری ادارے کے شایان شان نہ ہوتا۔ کسی بھی تحریر کو کلیتاً معروضی کہنا تو شاید درست نہ ہو، البتہ غیر متعصبانہ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ اور موخر الذکر خوبی یقیناً آپ کو زیر نظر کتاب میں نظر آئے گی۔