اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ کیا ہماری تاریخ یا ہماری زندگی میں فلسفہ، غوروفکر اور نظریات کا کوئی عمل دخل یا فائدہ بھی ہے؟ ویسے اگر سوال کرنے والا شخص ’’ہماری‘‘ زندگی کی بجائے ’’میری‘‘ زندگی کہے تو بات کافی حد تک واضح ہو جائے گی۔ لیکن یہ سوال بہر حال کافی عام ہے۔ ایسا ہی ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا کبھی کتب نے انسانی تاریخ کے کسی موڑ پر اہم کردار ادا کیا ہے، یا کیا علم وفضل نے زندگی کو زیادہ جینے کے قابل بنایا ہے؟ ’’سو عظیم کتابیں‘‘ کے مصنف مارٹن سیمور سمتھ نے اِس کے جواب میں کہا تھا کہ آج زندگی جس حد تک جینے کے قابل ہے وہ کتابوں کی وجہ سے ہی ہے۔ میں یہی رائے فلسفے کے بارے میں رکھتا ہوں۔ آج اگر ہم نیوکلیئر ہتھیار استعمال نہیں کر رہے تو اِس لیے کہ ہمارے عہد کا فلسفہ ایسا کرنے سے روکتا ہے! یہ فلسفہ بہت کمزور سہی، مگر انسانی مخاصمتوں اور تباہ کن تحریکات کے آگے بند باندھے ہوئے ہے۔
میں فلسفے اور فکر کو تاریخی اور سماجی و سیاسی دھارے کا حصہ سمجھتا ہوں، اور اِس کتاب کو اِسی نقطۂ نظر سے پیش کیا۔ ہندوستانی فکر کو بھی نمائندگی دینے کی کوشش کی ہے جس کی وہ بجاطور پر مستحق ہے۔ کتاب کے آخر میں اصطلاحات کی ایک فرہنگ اور اہم ترین کی مختصر تشریح بھی دی ہے۔