یہ حیران کُن اور فکر انگیز کتاب بہت سے سوالات کو تیکھے انداز میں ہمارے سامنے لاتی اور اِن کے ممکنہ جوابات بھی پیش کرتی ہے: ہماری کائنات کیسے بنی، کیا دوسری کائناتیں اور نظام بھی موجود ہیں؟ اس کرۂ ارض پر ہماری ابتدا کیسے ہوئی؟ کیا یہ دُنیا ہمیشہ سے ایسی تھی اور ہمیشہ ایسی رہے گی؟ اِس میں انسان کا مقام اور مستقبل کیا ہے؟ ہم نے خود کو اور فطرت کو جاننے کا عمل کیوں اور کیسے شروع کیا؟ کیا دیگر سیاروں پر بھی زندگی موجود ہو سکتی ہے؟ اگر کوئی اجنبی مخلوق ہمارے سیارے پر آ گئی تو کیا ہو سکتا ہے؟ کیا ہم ایٹمی ہتھیار تیار کر کے اپنی ہی تباہی کا سامان پیدا کر رہے ہیں؟……
مصنف فکر انگیز اور دوستانہ انداز میں قاری کو آہستہ آہستہ علم کے اِس بحری سفر پر ساتھ لے کر روانہ ہوتا ہے۔ کچھ کتب پڑھے جانے کے دوران ہی آپ کو بدلنے لگتی ہیں۔ کاسموس مجھے ایسی ہی ایک کتاب لگتی ہے۔ کارل ساگان نے 1980ء کی دہائی میں ٹیلی وژن پروگرام کی ایک سائنسی سیریز (Cosmos) تیار کی تھی، جسے بے پنا ہ مقبولیت حاصل ہونے کے بعد مزید مفصل مواد کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ 1985ء تک اس کی پچاس لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوچکی تھیں۔ اُسی دہائی میں کاسموس کو پی ٹی وی پر اردو ترجمے کے ساتھ چلایا گیا تو سائنس مخالفین کی جانب سے اعتراضات اُٹھے اور نتیجتاً پابندی لگا دی گئی۔
میں نے اِس کتاب کا اُردو ترجمہ 1997ء میں کیا۔ اِس نئے اضافہ شدہ اور نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن پیش خدمت ہے جس میں مصنف نے بعد ازاں کچھ حاشیوں کے علاوہ بہت سی تصاویر بھی شامل کی تھیں۔ نظرِ ثانی کے دوران مجھے کچھ غلطیاں دور کرنے کے علاوہ ترجمے کو زیادہ سلیس بنانے کا بھی نادر موقع میسر آیا۔