عربوں اور ان کی سرزمین کو سیاسی، ثقافتی اور تاریخی تناظر میں علم و تحقیق کی دنیا سے متعارف کروانے والی اس کتاب کا پہلا انگلش ایڈیشن 1937ء میں شائع ہوا۔ 1970ء تک اس کے متعدد زبانوں میں تراجم کے علاوہ دس سے زائد مختلف ایڈیشن شائع ہو چکے تھے جو اس کی وقعت و اہمیت کی دلیل ہیں۔ نائن الیون کے بعد عرب دنیا میں مغرب کی دلچسپی دوبارہ بڑھنے پر یہ کتاب ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بنی اور اس کے نئے ایڈیشن چھپے۔
اردو زبان میں تقریباً 100 صفحات پر مشتمل ایک تلخیص شائع ہو چکی ہے جو یقیناً ناکافی تھی۔ چنانچہ اس شاہکار کتاب کا مکمل ترجمہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اردو زبان میں اپنی نوعیت کی پہلی اور معتبر کتاب ’’تاریخ عرب‘‘ کی ترتیب، انداز تحریر اور ساخت ول ڈیورانٹ کی ’’سٹوری آف سویلائزیشن‘‘ جیسی ہے، جو اسی دور کے آس پاس لکھی گئی۔
مگر ہم نے اصل کتاب کے متن اور ساخت کو من و عن نقل کیا ہے۔ البتہ مصنف کی استعمال کردہ تصاویر کو دوبارہ چھاپنا ممکن نہیں تھا، لہٰذا نئی اور بہتر تصاویر تلاش کی گئیں۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ کہ ہم نے تمام نقشے بھی اردو میں دیے ہیں تاکہ متن میں استعمال کردہ جگہوں کو نقشے میں تلاش کرنا آسان ہو۔ صرف ایک دو نقشوں کو انگلش میں ہی دیا گیا جن میں جگہوں کے یونانی اور رومن نام دکھانا مقصود تھا۔