ہم میں سے بہت سے لوگ بچپن میں ہی تعصبات کے حفاظتی ٹیکے لگوا لیتے ہیں۔ اُنھیں بتایا اور یقین دلایا جاتا ہے کہ اُن کا ملک اسلام کا قلعہ ہے، ایک مرد مومن بھی ہوتا ہے جو امتناعِ حمل اقدامات کو جائز نہیں سمجھتا، جو وصول کردہ دینی تعلیم اور سلوک کو آگے بھی منتقل کرنا فرض سمجھتا ہے، اُس کے لیے اپنا اور اپنے والدین کا عقیدہ یا مذہب ہی واحد سچا مذہب ہے، اور اپنا قوم/قبیلہ ہی معزز اور عالی ہے۔ لہٰذا اور کچھ بھی جاننے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر غیر نظریہ جھوٹ اور ناپاک ہے۔ اُس کے اندر یہ خیال سمو دیا جاتا ہے کہ عالمگیر تباہی آئے گی، لشکر اُٹھیں گے، صحیح والا کلائمیکس اور ڈراپ سین ہو گا، پھر آپ اپنے اعمال یا عقائدانہ ڈومیسائل کی بنیاد پر جنت، دوزخ، یا برزخ وغیرہ میں جائیں گے۔ مولانا حضرات تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ آگے سے حوریں انڈرگارمنٹس کے بغیر کس انداز میں بیٹھی ہوں گی۔ واللہ اعلم۔ زوال زدہ قوموں کا ماضی ہمیشہ بہت خوش حال اور تابناک جبکہ نظریہ کامل ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے اِس ’’خیال‘‘ کی مخالفت کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتیں۔ ہمیں اجازت مانگنے کی غلطی کرنی بھی نہیں چاہیے۔ ہم دیگر اقوام کے ماضی کو ٹٹول کر پیش کر سکتے ہیں۔
یہ سب ’’تعلیمات‘‘ کے ٹیکے ہمارے اندر قطعیت کو جنم دیتے ہیں۔ قطعیت یا حتمیت بہت سی آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ مثلاً آپ کو ارتقائی تھیوری کی بک بک میں پڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کائنات ایک لفظ بولنے پر بن گئی تھی۔ وقت کے کی بورڈ پر واحد کمانڈ، اور بس۔ کام شروع/ختم۔ کیا کیمسٹری اور فزکس کی بکواس سننی! اگر کسی نے مبہم سا لرزتا ہوا سوال اُٹھایا تو غامدی صاحب ہیں نا! جس بات کا دفاع ہو سکتا ہوا کر لیں گے، نہ کر سکے تو استعارے اور مجاز والا بہانہ ہر وقت موجود ہے۔ اچھی نظریاتی استری کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔ پیروکار بھی بنا لیتے ہیں۔
چنانچہ ہر کوئی تاریخ کو سمجھنے کی ایک مسلکی چابی لیے بیٹھا ہے۔ لیکن تاریخ کا تالا کسی ایک چابی سے نہیں کھلتا۔ کہیں جغرافیہ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے تو کہیں موسم، فطری وسائل اور اتفاقی حالات، یا کسی جینئس کے کارنامے۔ یہ سب چابیاں ہر خطے میں مختلف کمبی نیشنز کے ساتھ موجود ہیں اور مختلف دروازے کھول کر انسانیت کے ہال کمرے میں پہنچنا ممکن بناتی ہیں جہاں سبھی دیسوں سے آئے ہوئے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، خواہ جائے وقوع کوئی سی بھی ہو۔ گوتم بدھ، ابن رشد اور ارسطو مساوی طور پر ’’ہمارے‘‘ ہیں۔
یورپ میں ایک اہم چابی تعلیم کی تھی۔ تہذیب کی کہانی کی ساتویں جلد میں ہمیں بربریت اپنی انتہا کو پہنچتی ہوئی معلوم ہو گی: چڑیلوں اور بدعتیوں (اختلافی رائے رکھنے والوں) کو زندہ جلانا، کھال کھینچنا، کٹے ہوئے سر آویزاں کرنا، فرقے اور عقیدے کی بنیاد پر پورے پورے گاؤں اور شہر ذبح شدہ جسموں سے بھر دینا، کلیسا کا ظلم و ستم، تنگ نظری اور تعصب، قطعیت اور اَن دیکھے پر کامل یقین، تجارتی مفادات…..۔ لیکن وہاں یونیورسٹیاں بھی موجود تھیں۔ آپ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ کیسے یسوعیوں نے تعلیم کو فروغ دیا جو پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد عام لوگوں تک پہنچانا ممکن ہو گئی تھی۔
بہیمیت کے باوجود تہذیب کی ترقی کا دریا روشن خیالی کی طرف بھی بڑھ رہا تھا۔ ہارورڈ کالج 1636ء میں قائم ہوا تھا۔ خوش حالی کی طرف گامزن ڈچ نے اِس دور میں چھے یونیورسٹیاں چلائیں۔ ایک ڈچ شہر لِیڈن نے ہسپانوی محاصرے کا کامیابی سے مقابلہ کیا (1574ء) تو متحدہ صوبوں کی قومی اسمبلی نے شہریوں کو دعوت دی کہ انعام مانگیں، اُنھوں نے ایک یونیورسٹی کی فرمائش کی؛ اِس کا حکم جاری کر دیا گیا۔ کیتھولک اور کیلونسٹ ممالک میں تعلیم اہلِ کلیسا کے کنٹرول میں تھی، لیکن شیکسپیئر، گلیلیو، ٹیکو براہے، کوپرنیکس، اور ڈیکارٹ جیسے اذہان کو پنپنے کا موقعہ مل ہی گیا۔ حد درجہ مظالم اور پابندیوں کے باوجود تعلیم کی چابی سے کہیں نہ کہیں ایک آدھ دروازہ کھلتا رہا۔
ہم شاید تعلیم کی چابی نہیں بنا پائے۔ لیکن کوئی بات نہیں، ہر خطہ ہی ہر کام نہیں کر سکتا۔ یہ ایک دروازہ بند سہی، مگر دیگر دروازے تو کھلے ہیں۔ مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے سکتا ہے کہ آپ اگر کامن سینس سے کام لیں اور ایک آدھ دروازہ کھول لیں تو شاید اندر سے کوئی بغلی راستہ، کوئی خفیہ الماری تعلیم تک جانے کی راہ بتا دے۔ جس طرح ہم ہیں، اس طرح تو اقوام کا سانس گھٹ نہیں جاتا؟
تہذیب کی کہانی ہمارے لیے اِن گھٹی ہوئی سانسوں کو جانچنے کا ایک نادر موقعہ ہے۔ ہم بہت سی بے وقوفیوں میں خود کو پائیں گے، اور کئی انسانی کامیابیوں پر داد دیتے ہوئے خود پر گریہ بھی کریں گے۔ جو بھی چاہے عشق کو عقل سے برتر سمجھے، لیکن واحد حقیقت تو قرار نہ دے۔ حواس خمسہ کے فراہم کردہ ڈیٹا کا مشکوک اور اضافیاتی ہونا ایک بات ہے، اور مابعدالطبیعیاتی وسوسوں کو حقیقت مان لینا الگ بات، جو سکٹزوفرینیا پیدا کرتا ہے۔ کوئی بڑی آفت یا تبدیلی شاید ہمیں بھی حقیقت کے سامنے لا کھڑا کرے گی۔ تب تک ہمارا فریضہ یا کردار یہی ہے کہ تنقیدی سوچ کو چھپ چھپ کر پالتے رہیں اور کسی کو پتا ہی نہ چلنے دیں کہ ہم سوچتے بھی ہیں۔
…………………………………………………………………..
تہذیب کی کہانی اِس تنقیدی سوچ کا ایک کھیت ہے۔ ساتویں جلد پریس میں ہے، رنگین صفحات چھپ بھی چکے ہیں۔ سوموار تک ساری کتاب چھپنے کے لیے چلی جائے گی اور اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں دستیاب ہو گی۔ مجھے بُرا نہیں لگتا کہ جب اگلی جلد پر کام شروع ہوتے ہی قارئین اُس کی اشاعت کے متعلق پوچھنے لگتے ہیں۔ میں اِس جوش اور ولولے اور انتظار کو مثبت سمجھتا ہوں، لیکن اِسے اپنے کام میں عجلت کا سبب نہیں بننے دیتا۔ میں نے یہ بھی پوری کوشش کی ہے کہ گزشتہ تین سال میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ جانے کے باوجود کم ازکم پیشگی بکنگ کروانے والوں کے لیے قیمت 4200 سے زیادہ نہ ہو۔ البتہ بعد میں بڑھا کر 4700 کر دی جائے گی۔ اور ڈاک خرچ بھی قیمت میں شامل ہوتا ہے۔ (ساتوں جلدوں کا ایک رعایتی پیکیج بھی بناؤں گا۔)
نوٹ: اِس جلد میں بار بار استعمال ہونے والی کچھ اصطلاحات کی فرہنگ دی ہے، اور فٹ نوٹس میں بھی ساتھ ساتھ وضاحت کی ہے۔ اِس کا معیار آپ کو سابق جلدوں جیسا اور بلکہ اُس سے بھی بہتر ملے گا۔
پیشگی بکنگ کروانے والوں کا ایک بار پھر شکریہ۔