نیدرلینڈز کے مصور رُوبنز کی یہ پینٹنگ ہمیں کچھ دیر کے لیے پناہ دے سکتی ہے جسے دیکھنے کی تربیت ول ڈیورانٹ نے دی ہے، چاہے خود یہ تفصیل نہ بھی بتائی ہو اور محض اشارہ دے دیا ہو۔ اِس کا نام The Feast of Venus ہے۔ مصوری کے اِس انداز کو باروک کہتے ہیں، یعنی مزیّن، آرائشی اور نمائشی انداز جو پینٹنگز کے علاوہ فنِ تعمیر اور موسیقی میں بھی ملتا ہے اور سترھویں سے اٹھارھویں صدی کے دوران یورپ میں مقبول رہا۔

پاکستان میں سفاک وزرا اور احمق صحافیوں اور صوبوں کے مسئلے کو پیچھے ہی چھوڑ کر کبھی کبھی کچھ دیر کے لیے کسی زیادہ قابلِ قدر شخصیت یا منظر کے پاس راحت محسوس کرنا ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تہذیب کی کہانی آپ کو ایسی متعدد راہیں دکھاتی ہے، اور میں نے بھی دیکھی ہیں۔

رُوبنز نے اِسے اپنی زندگی کے آخری عشرے میں پینٹ کیا۔ اُس کی عورتیں ڈیل ڈول والی اور حسن کے موجودہ معیار کے حساب سے فربہ ضرور ہیں، لیکن شمالی نیدرلینڈز کے موسمی تقاضوں سے نمٹنے کے لیے اُن کا ایسا ہونا ضروری تھا۔ موضوع ایک بار پھر اووڈ کی بیان کردہ کہانی سے لیا گیا ہے۔ یونان اور روم ہر تہذیب میں بار بار نمودار ہوتے اور زندگی بخشتے رہے، کیونکہ وہ بُت پرستی اور آرٹ کا سنگم تھے۔ اور بُت پرستی فطرت پرستی کی مجسم صورت ہے، لہٰذا اگر اِسے کوئی سلطنت یا بادشاہت مل جائے تو دائمی نقوش مرتب کر سکتی ہے۔

یہی منظر قبل ازیں اطالوی مصور ٹِیشن بھی بنا چکا تھا۔ اور وِینس کی پیدائش جیسی تصاویر میں بوٹی چیلی نے بھی وِینس دکھائی جو دنیا کی مشہور ترین تصاویر میں سے ایک ہے۔ ناقدین نے اِن میں بہت سی ’’غلطیوں‘‘ کی نشان دہی بھی کی ہے، لیکن آرٹ کی جمالیاتی اور حسیاتی کاملیت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ خطائیں ہر کام میں ہوتی ہیں، اِس کے بغیر کام ممکن نہیں۔ مثلاً بوٹی چیلی کی وِینس کی گردن زیادہ لمبی ہے۔ خوب صورت چیزوں کے نقائص بھی اُن کی پہچان بن جاتے ہیں۔

یہ پینٹنگ وِینس کے ایک مجسمے پر مرکوز ہے۔ قدیم رومن اِس تہوار کو Veneralia کہتے تھے اور یہ یکم اپریل کو وِینس Verticordia یعنی ’’دِلوں کو تبدیل کر دینے والی‘‘ وِینس کی شان میں منعقد کیا جاتا۔ البتہ اپریل فول سے اِس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ عورتوں کے لیے تطہیر کا تہوار تھا۔ وہ غسل کرتیں اور وِینس کے مجسمے کو سجاتی تھیں۔ اُن کے خیال میں یہ مجسمہ جنسی لحاظ سے پاک تھا اور معتقد عورتوں کو بھی پاک کر دیتا تھا۔

محبت کی دیوی وِینس کے مجسمے کا یہ پوز آپ کو دیگر پینٹنگز میں بھی ملے گا، یعنی وہ ایک ہاتھ سے چھاتیاں اور دوسرے سے پیڑو ڈھانپے ہوئے غسل گاہ سے باہر آ رہی ہے۔ قدیم دور میں اور متوسط طبقے کی اخلاقیات سے باہر اتنا پردہ بھی کافی تھا۔ یہ پوز بعد کے ادوار میں بھی ’’پردے‘‘ کا اعلان بن گیا۔ یقیناً یہ وِینس کو اور بھی زیادہ پُرکشش اور پراسرار بناتا ہے۔

پینٹنگ میں کیوپڈ فرشتوں کی ایک فوج ہے جو فربہ بچوں کی شکل میں اور پروں کے ساتھ دکھائے گئے۔ اِس میں بکرے کی ٹانگوں والے عفریت نما سیٹائر بھی موجود ہیں۔ قدیم عربوں کے جنات بھی ایسے ہی ہوتے ہوں گے۔ تصویر کے کسی بھی حصے میں زوم کرنے پر آپ کو کوئی نہ کوئی تفصیل مل جائے گی۔ مصور نے کہیں بھی عجلت سے کام نہیں لیا، حالانکہ کام زیادہ ملنے کی وجہ سے وہ رنگ بھرنے اور کچھ چیزیں بنانے کا کام اپنے معاونین کو بھی سونپ دیتا تھا۔ (میں نے بھی اُس کی نقل میں تحریر میں بہت کچھ کہنے کی کوشش کی ہے)۔

یہ تصویر نشاۃ ثانیہ کے اثرات نیدرلینڈز میں منتقل ہونے کی نمائندہ بھی ہے۔ اِس میں قدیم اسطورہ اور بُت پرستانہ کرداروں کے علاوہ ایک متواتر حرکت ہے۔ ہر جسم کا ہر حصہ حرکت میں ہے۔ بھینٹیں چڑھائی جا رہی ہیں، پھول اور پھول اِدھر اُدھر ملیں گے۔ اور نچلے بائیں کونے میں آپ مصور کی بیوی کو بھی ایک سیٹائر کے ہاتھوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ سولہ سالہ ہیلینیا سے شادی کے وقت مصور کی عمر 53 سال تھی۔ بعد میں وہ ہمیشہ اُس کے آرٹ میں نمودار ہوتی رہی۔

میرے خیال میں یہ پینٹنگ جسموں اور حرکت کے چھے گچھوں پر مشتمل ہے، اور اِسے ایسے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ہر چیز کا مرکزو محور محبت کی دیوی وِینس ہے۔ یہ آسٹریا کے دارالحکومت میں بنے میوزیم کا خزانہ اور ہماری بھگتیوں میں بُت پرستی کی ایک یاد ہے۔

شیئر کریں