سو عظیم شخصیات/عورتیں/سائنس دان وغیرہ کے عنوان والی کتابیں پیاس پیدا کرنے یا بڑھانے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ آپ کو کسی شخصیت کے حالاتِ زندگی، کارناموں اور اعزازات و اہمیت کے بارے میں تھوڑا بہت تعارف کروا دیتی ہیں۔ اُن کے ذریعے آپ بس جینئس کی عمارات کے سامنے سے ہدیۂ عقیدت اور تحسین پیش کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن تہذیب کی کہانی جیسی کتب جینئس کی عمارت کے اندر بیٹھ کر عظیم ہستیوں کے ساتھ ضیافت میں شریک ہونے جیسی ہیں۔ وہاں آپ میز پر سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے اور گفتگو کرتے ہیں۔ پوپ کھانے کی دعائیں پڑھتے اور بہترین پکوان اپنے لیے مختص کر لینا چاہتے ہیں۔ شیکسپیئر گرج دار تاسف کے ساتھ کہتا ہے، ’’ہم دیوتاؤں کے لیے وہی کچھ ہیں جو شرارتی لڑکوں کے لیے مکھیاں……۔‘‘ پھر مارٹن لوتھر اُٹھتا اور پوپ کے خلاف دشنام طرازی شروع کر دیتا ہے۔ جان ہس اور جان کیلون اُس کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں، اور پھر آپس میں دست بہ گریباں ہوتے ہیں۔
کوئی باہر نہیں جا سکتا، کیونکہ باہر جنگ ہو رہی ہے۔ جنگ انسانی تاریخ کی کہانی کے ہر باب کی شروعات ہے۔ طبلِ جنگ ہر گیت سے پہلے اور درمیان میں بھی بجتا رہتا ہے۔ لیکن اگر یہی کچھ ہوتا، صرف جنگ اور مذاہب، عدالتِ احتساب اور فرقہ پرستی ہی ہوتی تو تہذیب کیا انسان بھی زندہ نہ بچ پاتے۔ جس طرح آپ کیلی گرافی پر غور کرتے ہوئے اچانک ایک خوب صورتی ’’محسوس‘‘ کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں بتا پاتے کہ یہ احساس کہاں سے آیا جو آپ کو بتاتا ہے کہ ع یا الف کی کامل حسین صورت کیا ہے۔ اِسی طرح انسان بھی مرتے مرتے ایک احساس کے ساتھ باقی رہ جاتے ہیں۔ جنگ کا گیت بھی تو گیت ہی ہوتا ہے۔ اُس کے بغیر جنگ بھی نہیں ہوتی۔
ساتویں جلد کی ضیافت کا ماحول کشیدہ ہے، اور بٹلر (یعنی ضیافت کا مہتمم اعلیٰ، ول ڈیورانٹ) سب کو باری باری برخاست کرتا اور جانتا ہے کہ: ’’مذاہب پیدا ہوتے اور مرتے ہیں، لیکن توہمات لافانی ہیں۔‘‘ پھر وہ آپ کو ایک ایک کمرے میں ٹھہرے ہوئے عظیم لوگوں سے ملواتا ہے۔ آپ نے شاید کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ 1550ء اور 1650ء کے درمیان سو سال سے آئے ہوئے لوگوں میں بھی اتنے اہم لوگ ہوں گے جنھوں نے اجتماعی تہذیب میں حصہ ڈالا۔
مریل سی، زرد رُو، سڑیل اور عشوہ باز ملکہ الزبتھ اپنی نہایت دبلی کمر اور سنہری بالوں کے ساتھ آپ کو بغیر مسکرائے دیکھتی ہے۔ وہ انگلینڈ کی ایک حکمران تھی لیکن پورا ایک دور اُس کے نام سے منسوب ہو گیا۔ اُس کے عہد میں انگلینڈ نے سرشاری پائی، آئرلینڈ اور سپین کے ساتھ تنازعے کے باوجود یہ ایک جادوئی دور تھا۔ انگلش موسیقی، آرٹ اور کتب کا رجحان اِسی عہد میں قائم ہوا۔ ہم اُس کے دور میں فلپ سڈنی اور ایڈمنڈ سپنسر سے ملتے ہیں۔ یہیں پر باضابطہ انگلش سٹیج کے بانی کرسٹوفر مارلو اور ولیم شیکسپیئر بھی ہیں۔ بَین جانسن اور جان ڈن کا یہ عہدِ آغاز ہے۔ فرانسس بیکن بھی ہے جس نے علم کو سائنسی بنیادی فراہم کرنے کی کوشش کی اور عقل کا مرغِ سحر بنا۔
سپین کو بحری بالادستی کی بدولت تجارت اور تہذیب میں بھی اہمیت حاصل ہوئی۔ سروانتیز، لوپے دے ویگا اور کالدیرون اِسی سنہری صدی کے نمائندے ہیں۔ رِیشلیو سفارت کاری اور حکومتی انتظامات میں اپنا جینئس ظاہر کرتا ہے۔ مونتین تشکیک پسندی کی کچھ شمعیں روشن کرتا ہے۔
فلکیات نے ٹیلی سکوپ کی ایجاد کی بدولت زبردست ترقی پائی اور افق وسیع ہوتے ہوتے سورج سے بھی پرے چلا گیا۔ کوپرنیکس، گلیلیو، کپلر اور کوپرنیکس اپنے مشاہدات اور خیالات کے ذریعے ہمیں مسحور کرتے ہیں۔ سپین کا فلپ دوم اور فرانس کا ہنری چہارم جیسے حکمران علم و ہنر کی سرپرستی کرتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اِس دور میں ڈچ قوم میں مصوری کا جینئس سب سے بڑھ کر تھا۔ ریمبرانٹ اور روبنز، ویلازکیز اور وین ڈائیک اور دیگر۔
اور آخر میں ہمارے پاس رینے ڈیکارٹ سے ملوا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہم اگلی ضیافت اور محفل کے لیے زیادہ بے چینی محسوس کرنے لگتے ہیں۔
بہاول نگر سے دو دوستوں بلال محبوب فردوسی اور مدثر یونس نے اِس جلد کے لیے مالی تعاون کیا ہے جن کا مختصر تعارف آپ کتاب میں پڑھیں گے۔ میں اس علمی اور تاریخی پروجیکٹ کی سرپرستی کے لیے اُن کا ممنون ہوں۔ دیگر دوست اور قارئین پیشگی آرڈرز کے ذریعے تعاون کر رہے ہیں۔ اِس سب کچھ کے بغیر یہ پروجیکٹ تکمیل کی جانب اتنی کامیابی سے نہیں جا سکتا تھا۔
(نوٹ: میں چند دن میں ساتویں جلد کے موضوعات پر بات کروں گا۔ پہلے نام آغاز عصر خرد قصداً رکھا تھا۔ اِس جلد کو عقلیت کا آغاز کے نام سے ہی سمجھا اور پکارا جائے۔)
Yasir Jawad/یاسر جواد