ڈاکٹر مبارک علی صاحب آج کتابوں اور کتابیں چھاپنے کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ کہ آج کل کیا چھپ رہا ہے؟ میں نے کہا کہ بہت اعلیٰ ادب چھپ رہا ہے، جو چھپنے سے پہلے ہی انعام یافتہ ہوتا ہے۔ آپ بیتیاں شائع ہو رہی ہیں ریٹائرڈ بیوروکریٹس کی۔ وہ پوچھنے لگے کہ عصمت چغتائی وغیرہ کوئی پڑھتا ہے اب بھی؟ میں نے کہا، ضرور پڑھتے ہیں، دستوئیفسکی بھی، ٹالسٹائی اور گورکی بھی، عصمت اور کرشن چندر، منٹو اور راجندر سنگھ بیدی بھی۔ اُنھیں تھوڑی حیرت ہوئی کہ وہ کون چھاپتا ہے؟ میں نے کہا کہ وہ مسودے مفت ہیں، بس صرف کمپوزنگ کروائیں اور چھاپ دیں۔ اس لیے ایک سے زائد نے ایک ہی کتاب چھاپ رکھی ہے۔

پھر وہ مختلف اداروں کا پوچھنے لگے۔ شیخ مبارک علی اینڈ سنز کا تو اُنھیں یاد تھا کہ اُسی وقت بند ہو گیا تھا جب وہ خود بھی آتے جاتے تھے۔ شربتی آنکھوں والے یہ شیخ صاحب پاکستان اور انڈیا کے درمیان کتب کا لین دین کیا کرتے تھے۔ صفانوالہ چوک میں گھر کے نیچے ہی ایک کمرے میں دُکان نما سٹور تھا۔ پھر ڈاکٹر صاحب نے سبط حسن اور جلالپوری کی کتب کا پوچھا، اور پبلشر دانیال کا۔ میں نے کہا کہ وہ ضرور چھپتی اور بکتی ہیں۔ باقی کوئی قابلِ ذکر طبع زاد علمی کتاب نہیں شائع ہوتی۔ بس لوگوں کے عالیشان تھیسز ہی ہیں۔ وہ بھی زیادہ تر خود ہی چھپواتے ہیں تاکہ ’’اُن کی تحقیق چوری نہ ہو جائے۔‘‘

پھر میں خود ہی بتانے لگا کہ مال روڈ پر فیروز سنز تو جل گیا تھا، اور ماورا ویسے ہی غیر فعال ہے۔ ریگل چوک میں بھٹو کا شوقین پبلشر کلاسیک بیکری بن گیا۔ قوسین اور سویرا وغیرہ نجانے کہاں ہیں۔ تخلیقات بھی بند ہو گیا، بک ہوم بھی شاید ہی کچھ نیا چھاپتا ہے۔ اردو بازار والوں کا پہلے سے کچھ اور مزاج تھا۔ پیرا ماؤنٹ بکس، سیٹھی نیوز ایجنسی، وین گارڈ وغیرہ سب یاد رفتہ ہوئے۔

اس کے بعد وہ علمی کانفرنسوں اور سیمینارز کا پوچھنے لگے۔ میں نے کہا کہ علمی تو نہیں ہوتیں، ادبی ضرور ہوتی ہیں۔ اب سیزن شروع ہونے والا ہے شادیوں اور لٹریری فیسٹیولز کا۔ وہاں سیاست چلتی ہے۔ آپ مجھے بلائیں، میں آپ کو بلاؤں اور بس۔ یہی کم بخت پیپر بعد میں تحقیقی پیپرز بن کر شائع بھی کر دیے جاتے ہیں۔ استغفراللہ۔ کم ازکم اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں تو یہی صورت حال ہے۔ کہیں کوئی گوہرِ نایاب پاکپتن یا دیپالپور یا جہلم جیسے ’’تہذیبی مراکز‘‘ میں چھپا بیٹھا ہو تو کہہ نہیں سکتے۔ کتابوں سے متعلقہ لوگ بھی تو سارے معاشرے کے ساتھ ہی بہہ گئے۔

ابھی ڈاکٹر صاحب نے بس نہیں کی۔ وہ نیشنل بک فاؤنڈیشن، مقتدرہ قومی زبان، اکادمی ادبیات، مجلس ترقیِ ادب، ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ اور اردو سائنس بورڈ کی بابت دریافت کرنے لگے کہ وہ کیا چھاپ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اِن میں سے آدھے تو سوشل میڈیا پر تقریبات کی فوٹوز لگاتے اور ایوارڈ دیتے لیتے ہیں۔ باقی بس بنے گئے ہیں تو قائم ہیں۔ نیا وہ کچھ نہیں کر رہے۔ پرانی کتابیں بھی آؤٹ آف پرنٹ ہی رہتی ہیں۔ یہ سب ادارے ایک ہی چار منزلہ بلڈنگ میں کھپ سکتے ہیں۔ لیکن بیوروکریسی کو کچھ اور ہی منظور ہے۔

اُنھوں نے تعریف کی کہ میں اِس ماحول میں بھی تہذیب کی کہانی کا پروجیکٹ جاری رکھے ہوئے ہوں۔ اور شاید یہ اُردو ترجمہ کا آخری بڑا پروجیکٹ ہے۔ وہ پہلے کی طرح اِس بار بھی حیرت کا اظہار کر رہے تھے کہ ایسی سنجیدہ کتابیں پڑھنےو الے موجود ہیں۔ میں خوش ہوا، خود پر ناز ہوا، اور بولا کہ یہ سب قارئین کے ساتھ قدیم اور طویل تعلق کا نتیجہ ہے۔ ورنہ مملکتِ خداداد میں…….

میں نے ڈاکٹر صاحب کو مشورہ دیا کہ اب آپ کسی بھی پبلشر کو اپنی کتابیں نہ دیں۔ اگر کوئی چھاپنے پر تیار ہو بھی گیا تو کوئی معاوضہ نہیں دے گا۔ اگر معاوضہ دیا تو چند ماہ ہی دے گا۔ ’’بس سکون ہی غارت ہو گا اور اذیت ہو گی۔‘‘

Yasir Jawad/یاسر جواد

شیئر کریں