ژاک دریدا کو بیسویں صدی کے اہم ترین فلسفیوں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے فلسفے کی پوری تفہیم کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ وہ بہت مشکل ہے، لیکن جہاں سے سمجھ آ جائے، وہاں بہت دلچسپ بھی۔ اُس کی ایک کتاب دوستی کی سیاست پر ہے: Politics of Friendship Derrida جو 1997ء میں شائع ہوئی۔ اس میں وہ پیچیدہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے دوستی، انصاف اور جمہوریت کو منسلک کرتا ہے۔ یہ کتاب افلاطون اور ارسطو سے لے کر نٹشے اور Levinas تک فلسفیوں کا ایک جائزہ ہے اور دوست/دشمن اور خود/دوسرا کے تصورات میں ملوث پیراڈاکسز کو اجاگر کرتی ہے۔
ارسطو نے کہا تھا: ’’اے میرے دوستو، کوئی دوست نہیں ہے۔‘‘ درایدا کے خیال میں دوستی ایک چھلیا اور فریبی تصور ہے جسے کو بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ نٹشے کی پیروی میں پوچھتا ہے کہ کیا دوستی ’’محبت سے زیادہ مشتاق ہو سکتی ہے۔‘‘ روایتی طور پر دوستی میں استحکام، قربت اور خلوص کو شامل سمجھا جاتا ہے، لیکن دریدا سوال اُٹھاتا ہے کہ کیا دوستی علیحدگی، فاصلے، سرحدوں اور خبرداری کی اہمیت کو تسلیم کر سکتی ہے یا نہیں۔ آخر دو دوست قطعی مختلف کہکشاؤں سے آئے ہوئے شہاب ثاقب جیسے ہوتے ہیں۔ وہ ایک منفرد ماضی اور دنیا کے بارے میں مختلف نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ لیکن اُس کے خیال میں دوستی اِس قدر خصوصی، اِس قدر نادر ہے کہ اِسے نام دینے سے اِس کی قدر گھٹ جاتی یا اِس کی تردید ہو جاتی ہے۔
دریدا نشان دہی کرتا ہے کہ جس سے طرح دوستی کی تعریف کی جاتی ہے، اِس کے متعلق لکھا، اِس کا تجزیہ کیا اور ادراک کیا جاتا ہے، اُس کے کچھ سیاسی مضمرات ہوتے ہیں۔ سیاست میں دوستی کی معدومیت کی جزوی وجہ یہ ہے کہ سیاست کے مباحث میں اکثر اوقات دشمنی، جنگ، لڑائیوں، سپاہیوں، حلفیہ ساتھیوں کے غیر دوستانہ تعلقات کے حوالے شامل ہوتے ہیں۔ اور ایک زیادہ اہم بات یہ کہ سیاست کے اِن روایتی بیانات میں (تصادم کی ایک جگہ کے طور پر) صرف مرد ہی موجود ہوتے ہیں۔ دریدا کے الفاظ میں: ہاں مرد، صرف مرد ہی مرد، جنگ، کاسٹیومز، ہَیٹس، یونیفارمز، چوغوں، جنگجوؤں، کرنلوں، جنرلوں، حلیفوں، فنِ حرب کے ماہرین، سیاست دانوں، پروفیسر، سیاسی نظریہ دانوں، ماہرینِ الٰہیات کی صدیوں میں مرد اور صرف مرد۔‘‘ سیاست کو جنگ کے ساتھ جوڑنے کا مطلب ہے کہ عورتیں چونکہ جنگ سے منسلک نہیں، اِس لیے وہ سیاست سے بھی خارج ہیں۔ نہ صرف جنگ اور دشمنی مرد پر مرکوز ہے، بلکہ دوستی کو بھی مردانہ حوالوں سے ہی بیان کیا جاتا ہے۔