یہودی اور مسلم سائنس دانوں کے درمیان نوبیل پرائز حاصل کرنے میں کامیابیوں کا تناسب تعلیم، ریاضی اور سائنس کو معاشرے میں ملنے والی سائنسی اقدار کے متعلق اہم سوالات اُٹھاتا ہے۔ نوبیل انعام حاصل کرنے والوں میں یہودی تقریباً 25 فیصد ہیں، جبکہ مسلمان صرف 0.46 فیصد بنتے ہیں۔

نمایاں فلکی طبیعیات دان نیل ڈی گراس ٹائیسن کے مطابق 1900ء سے اب تک 655 نوبیل انعامات حاصل کرنے والوں میں سے 165 یہودی ہیں، اور دنیا میں یہودیوں کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔ اِس کے مقابلے میں ڈیڑھ ارب آبادی والے مسلمانوں میں سے صرف تین افراد کو نوبیل انعامات ملے ہیں، جو کل کا 0.46 فیصد بنتا ہے۔

اہم یہودی سائنس دانوں میں البرٹ آئن سٹائن، رچرڈ فینمان، اَیلی وِیزل اور سٹیون وینبرگ شامل ہیں، جبکہ مسلمانوں میں صرف ملالہ یوسف زئی، محمد یونس اور احمد زیویل کے نام ہیں۔ یہودیوں نے بائیو میڈیکل میں سب سے زیادہ نوبیل انعامات (49) لیے۔ اس کے بعد نمایاں شعبے کیمسٹری (28)، فزکس (45) اور اکنامکس (28) ہیں۔ مسلمان نوبیل انعام یافتہ افراد میں کیمسٹری، فزکس اور اکنامکس میں ایک ایک نام ہی شامل ہے۔ چونکہ ہم ڈاکٹر عبدالسلام کو مسلمان نہیں مانتے، لہٰذا یہ تعداد صرف دو ہی سمجھنی چاہیے، اور یوں تناسب 0.3 فیصد رہ جائے گا۔

ٹائیسن کے خیال میں اِس مہیب فرق کی وجہ سائنس اور تعلیم کے حوالے سے ثقافتی اقدار کے فرق میں ہیں۔ یہودی کمیونٹی نے ریاضی اور سائنس کو متواتر اہمیت دی۔ چنانچہ اُن کے ہاں ماحول اکیڈمک کامیابی اور جدت پسندی کا ہے۔ دوسری طرف (بقول ٹائیسن) امام حامد الغزالی کے اثرات نے مسلم دنیا میں ریاضی اور سائنس کی اہمیت ختم کر دی۔ الغزالی نے سرگرمیوں کو روحانی یا دنیاوی میں درجہ بند کیا، جس کا مطلب ہے کہ انسانوں کو روحانی جستجو میں توجہ دینی چاہیے۔ یوں سائنسی تحقیق کی اہمیت ختم ہو گئی۔

مسلم دنیا میں کرنسی نوٹوں پر سائنس دانوں کی تصویریں نہیں ملتیں، جو تعلیم اور جدت پسندی کے حوالے سے معاشرتی اقدار کی عکاسی کرتی ہے۔ اِس کے برعکس جرمنی جیسی اقوام میں سائنس دانوں کو کرنسی پر احترام دیا گیا، جبکہ مسلم ممالک میں ایسا نہیں۔ پولینڈ اور یو کے جیسے ممالک اپنے سائنسی کارناموں کی تشہیر کرنسی پر کرتے ہیں جن پر میری کیوری اور چارلس ڈارون کی تصاویر ہیں۔

دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمان دریافت کے سفر سے لاتعلق ہیں۔ عورتوں سمیت پسماندہ گروپوں کو تعلیم اور سائنسی تحقیق تک رسائی نہ دی جائے تو بحیثیت مجموعی معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے۔ ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ مسلم کمیونٹی میں تعلیم اور سائنس پر نئے سرے سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اِس کے لیے ہر فرد کو علم کی جستجو میں شریک کرنا چاہیے۔ دنیا کی اتنی بڑی آبادی کا سائنس سے نابلد ہونا تشویش ناک ہے۔

شیئر کریں