انسانیت کی کشتی ایک ایسے ساحل سے جا لگی ہے جہاں تخیل کا فقدان پیدا ہو رہا ہے۔ یوول حراری نے بہت درست بات کہی کہ آئیڈیا یا خیال نے انسان کو انسان بنایا۔ اسی میں تمام ممکنات، تمام دیوتا، کہانیاں، محبتوں کے واہمے، ساری شاعری اور حتیٰ کہ غم بھی رہتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ بندر یا بوزنے تخیل کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں، لیکن ہم انسان اِس سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ آئیڈیا پائیدار چیز ہے، نہ کہ اُس کے مادی اظہار۔ مثلاً اگر ٹویوٹا کمپنی کی ساری فیکٹریاں مسمار کر دی جائیں، تمام ٹویوٹا گاڑی بھی ختم ہو جائیں تو ٹویوٹا کمپنی پھر بھی موجود رہے گی۔ لیکن اگر اُس کمپنی کا ’’آئیڈیا‘‘ یا رجسٹریشن کا ڈاکومنٹ منسوخ ہو جائے تو کمپنی نہیں رہے گی۔

کمپیوٹر سائنس، ایم بی اے اور ایسے ہی دیگر تکنیکی ’’علوم‘‘ نے تخیل کو باندھ کر صرف ایک سمت میں لگایا اور بشریات یا ہیومینیٹیز کا دور اچانک ختم ہوا۔ ساتھ ہی ہم کمپیوٹر کا دور مکمل کر کے سمارٹ فون کی دنیا میں داخل ہوئے اور اب اے آئی سے دوچار ہیں۔

غور کریں کہ ہم ریلز اور کلپس کی شکل میں روزانہ جو میٹریل دیکھتے ہیں وہ کیا ہے: نہایت حسین پیروں اور برفی جیسے رخساروں والی لڑکیاں، کولہے اور زینت، حتیٰ کہ مقدس کلام کا ری مکس، سیکس کے ٹوٹکے، نفس کی لمبائی کے لیے گدھے کے نام سے منسوب ٹانک، زنگ آلود نٹ بولٹ کھولنے کا طریقہ، لکڑی کی ڈوئیاں بنانا، بہت لمبے اور ریشمی بدن والی چینی لڑکیاں، معدے کے امراض کے متعلق راہنمائی، وغیرہ۔ فہرست غیر مختتم ہے۔

میرے اندازے کے مطابق انسانوں پر مشتمل کلپس میں پچاس فیصد کے قریب اے آئی کا کمال ہے، یا پھر ویڈیو ایڈیٹنگ کا۔ اب تو لطیفے بھی چھن چکے ہیں۔ غور کریں تو محسوس ہو گا کہ اب ہم ایک دوسرے کو لطیفے یا چٹکلے بھی نہیں سناتے۔ یہ ظرافت wit کی ایک عوامی صورت تھی۔ اب ہم لطیفوں پر فلمائے ہوئے کلپس پر انحصار کرتے ہیں۔ تخیل کی موت کا آغاز ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ پورن کی ضرورت بھی ختم ہو چکی ہے۔ ہم جلد ہی دیکھیں گے کہ ابھی جو ’’کمیاں‘‘ ہم فلٹرز اور اے آئی سے پوری کرتے ہیں، اُن کی جگہ مکمل طور پر اے آئی کی پروڈکٹس لے لیں گی۔ اور یوں اپنے ہی پیدا کردہ سلسلے کی موت ثابت ہوں گی

جن معاشروں سے ہم نے اندھا دھند یہ امیجز اور طریقے لیے ہیں، وہ اب ہیومینیٹیز پر زور دینے لگے ہیں۔ ہم تک تو ایسی خبریں تیس چالیس سال دیر سے پہنچا کرتی ہیں۔ ہمارا دانشور اور نقاد ابھی تک پوسٹ ماڈرن ازم کا ڈھول پیٹ رہا ہے۔ دنیا دوبارہ انسان کو تلاش کرنے اور مستحکم بنانے کی راہ پر چلنے لگی ہے۔ کیونکہ انسان کو جس تخیل کے ساتھ ہم جانتے ہیں، وہ تخیل کی بدولت ہی باقی بچے گا۔

ماضی اور پس منظر کا مطالعہ ہی ہمارے تخیل کو محفوظ رکھ سکتا یا اُس کا انحطاط سست کر سکتا ہے۔ ایک اندھے معاشرے میں رہنے کی وجہ سے ہمارے لیے توازن حاصل کرنے کی مشق اور تربیت اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔ تاریخ اور تہذیب کا مطالعہ ہمیں عہد بہ عہد تصویریں دکھاتا ہے کہ انسان پہلے بھی ایسے اجتماعی اور انفرادی پاگل پن کا شکار ہوتے رہے ہیں، اور ہمیشہ سوچ، تخیل اور فلسفے نے ہی اُسے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ اِس کے علاوہ کوئی صورت ہے تو بتائیں!

مطالعہ ہمیں انسانی دانش اور تجربے کے مجموعے سے منسلک کرتا اور پس منظر دیتا ہے۔ اگر ہمیں یاد نہ رہے یا بھلا دیا جائے کہ صبح کیا کھایا تھا یا باپ دادا کا نام کیا تھا تو کیسا محسوس ہو گا! یہ چیز اقوام اور معاشروں پر بھی لاگو ہوتا ہے، اور یہی مطالعہ کا مطمح نظر ہے کہ بطور انسان ہماری پیوست رہیں اور آئیڈیا پیدا ہوتا رہے۔

یہ تحریر اس لیے پوسٹ کی ہے کیونکہ ایک دوست نے پوچھا تھا کہ مطالعہ کر لیا جائے تو کیا حاصل؟ یعنی اُس کا مصرف کیا ہے؟

شیئر کریں