یہ کتاب پہلی بار 1983ء میں شائع ہوئی اور اُس وقت تک کی تمام نمایاں ادبی تھیوریز کا ایک تاریخی جائزہ پیش کرتی ہے۔ ٹیری ایگلٹن ایک سادہ سے سوال کے ساتھ آغاز کرتا ہے: ادب کیا ہے؟ اِس میں کیا کچھ آتا ہے؟ کون فیصلہ کرتا ہے کہ ادب کیا ہے اور کیا نہیں؟ آج ہم جس ہومر کو پڑھتے ہیں کیا وہ وہی ہومر ہے جسے قرونِ وسطیٰ میں پڑھا جاتا تھا؟ ہم موضوعی ذوق کو کہاں رکھیں؟ (مثلاً اگر ادب کا کوئی پروفیسر اپنی نوکری بچانے اور رفقائے کار کی نظر میں عزت قائم رکھنے کی خاطر لوگوں کے سامنے اعلان کرے کہ ’فلاں فلاں ایک عظیم شاعر ہے‘)۔ ہم عام آدمی اور اکیڈمک پروفیسروں کے درمیان ذوق کی تقسیم کو کہاں شمار کریں؟
ایگلٹن واضح طور پر اِس رائے کا حامی ہے کہ مغربی ادبی شرع کسی ناقابلِ ترمیم روایت کی بجائے ایک معاشرے کے سماجی مفادات کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ تو یہاں تک کہہ دیتا ہے کہ مستقبل میں ایک دور ایسا بھی آئے گا جب شیکسپیئر یا ہومر قارئین کے لیے بامعنی یا دلچسپ نہیں رہیں گے اور اُنھیں ادب عالیہ نہیں مانا جائے گا۔ اِس سے آگے بڑھ کر وہ ادب میں عمیق تر صداقتیں موجود ہونے کے تصور پر حملہ کرتے ہوئے دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ صادق بیانات بھی ویلیو ججمنٹس (قدر پیمائیوں) کا ہی معاملہ ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ مختلف معاشروں کی صداقتیں مختلف ہوں گی۔ ادب کا تجزیہ کرتے وقت ہمارا فوکس کیا ہونا چاہیے؟ ماورائی صداقتیں؟ ادبی پیداوار کا عمل؟ عورتوں کا ابدی استحصال اور غریبوں کے سماجی حالات؟ وغیرہ۔