یہ کتاب پنجاب کی تاریخ میں ایک بہت بڑے اور نمایاں عبوری دور اور تبدیلی کا حال پیش کرتی ہے جب نئے حکمرانوں کے ماتحت معاشرہ ہر پہلو سے نئی کروٹ لینے پر مجبور ہوا۔ انیسویں صدی کے دیگر معاشروں کی طرح پنجاب میں بھی تعلیمی عمل پیشوں، مذہب اور سماجی طور طریقوں سے جڑا ہوا ہونے کے باعث اس تقلیب یا تخریب کے عمل کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ مصنف نے ایک استعماری طاقت کی مشینری کا حصہ ہوتے ہوئے بھی پنجاب پر ٹوٹنے والی اس اچانک آفت کا ہر پہلو سے ہمدردانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ اس کے بقول یہ ایک طرح سے شیر کے شکار کی کہانی کو شیر کے نقطۂ نظر سے بیان کرنے کی کوشش ہے۔
اس موضوع اور عہد کے بارے میں شاید ہی کوئی اور تحریر اس قدر معلومات بخش اور مدلل ہو۔ اگر مصنف کو خاطر خواہ مہلت دی جاتی تو یقیناً وہ زیادہ مدلل اور مربوط رپوٹ تیار کرتا۔ اُس نے تنگیِ وقت کا شکوہ کیا، جس کی وجہ سے اُسے ایڈیٹنگ کا موقعہ نہ مل سکا۔ ہم نے ترجمہ میں کوئی کمی و بیشی نہیں کی اور متن کو ہر ممکن حد تک مکمل حالت میں پیش کرنے کی کوشش کی۔