کتاب کے مصنف نے اسلامی عقائد کو بیچ میں لائے بغیر جمال الدین افغانی سے لے کر طالبان اور القاعدہ تک ایک تسلسل کی کڑیاں ملائی ہیں اور واضح کیا ہے کہ مذہب کے پس پردہ نونوآبادیاتی قوتیں اور پھر تیل پر قبضہ جمانے کی کوششیں کارفرما تھیں۔ مثلاً ناصر نے جنرل نجیب کے ذریعے اخوان المسلمین کو قبول کیا اور پھر انہیں زبردست تادیبی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد انور سادات نے اخوان المسلمین کو اتنی اہم قوت بنا دیا کہ خود بھی ایک اخوان مذہبی کارکن کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اسی طرح پاکستان نے طالبان پر دست شفقت رکھنے میں ساری دنیا پر سبقت حاصل کی اور اب ان کے خلاف کارروائیوں میں ’’دہشت گردی کے خلاف‘‘ بے مقصد جنگ کا سرکردہ مہرہ بنا ہوا ہے۔ یہ مثالیں مصنف کا یہ نکتۂ نظر واضح کرنے کے لیے کافی ہیں کہ مذہب کا میکیاویلیائی استعمال اور کردار عوام کے رجحانات اور حتیٰ کہ پوری پوری نسل کا مزاج بھی ناقابل تلافی طور پر بدل سکتا ہے، اور اس تبدیلی کا اصل عقیدے سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔

ڈریفس نے اپنی تحقیق کا مرکزی موضوع بتاتے ہوئے لکھا ہے: ’’اس کتاب کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ امریکہ نے سرد جنگ کے دوران اسلامی دائیں بازو کو ایک قابل قدر امریکی حلیف خیال کیا۔ کیا امریکہ- سوویت دشمنی غائب ہو جانے پر یہ اتحاد بے اثر یا فضول ہو گیا؟ کیا اپنے کمیونسٹ دشمن کا خاتمہ ہو جانے پر اسلامی دائیں بازو نے اپنے غیض و غضب کا رخ سیکولر مغرب کے عظیم شیطانوں کی جانب کر دیا؟ کیا امریکہ عرب ریاستوں – ایران، شام، لیبیا، سوڈان اور سعودی عریبیہ – کے نظام سے مربوط کئی سر والے عفریت پر مشتمل ایک عالمگیر دشمن سے دوچار ہے؟‘‘ وہ کسی رجائیت پسند کے برخلاف کوئی قطعی حل پیش کرنے کی بجائے ’’امریکہ کا شیطانی کھیل جاری ہے‘‘ کے الفاظ پر اپنی تحقیق کا اختتام کرتا ہے، مگر اس کھیل کے تمام اصولوں اور کھلاڑیوں سے پردہ اٹھانے کے بعد۔

صحافی رابرٹ ڈریفس ’’رولنگ سٹون‘‘ جریدے کے لیے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کے امور کا رپورٹر ہے۔ اس نے ’’دی نیشن‘‘ کے لیے عراق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے موضوع پر بہت کچھ لکھا۔ علاوہ ازیں ’’دی امیریکن پراسپیکٹ‘‘ اور ’’مدرجونز‘‘ میں بھی اس کی بہت سے تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔ وہ NPR، MSNBC، CNBC اور دیگر متعدد چینلز پر رپورٹس پیش کرتا رہتا ہے۔ ڈریفس نے کولمبیا یونیورسٹی سے گریجوایشن کی۔