یہ کتاب پنجاب مردم شماری رپورٹ 1881ء کے باب ’’لوگوں کی نسلیں، ذاتی اور قبائل‘‘ پر مشتمل ہے۔ رپورٹ اور اس بات کی تیاری میں مصنف نے ’’ذات‘‘ کے تصور کی پیچیدگیوں اور نتیجتاً درپیش مسائل پر مفصل اور مدلل بحث کی ہے۔ پہلے ترجمہ میں تمام جدول شامل نہ کرنے کا سوچا گیا تاکہ ضخامت زیادہ نہ ہو، لیکن ایسا کرنے سے کتاب کی عبارت کو بھی کافی جگہ سے موڑنا پڑتا۔ دوسرے مصنف نے اپنی گفتگو کی بنیاد ہی ان اعداد و شمار کو بنایا، چنانچہ اُنھیں جوں کا توں پیش کیا جارہا ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ طباعت کے تقریباً 115 برس ہوا ہے لیکن اس کی اہمیت ذرا بھی کم نہیں ہوئی کیونکہ یہ پنجاب کے لوگوں کی سماجی تاریخ بھی ہے جو اس موضوع پر آئندہ ہونے والے کاموں کی بنیاد بنے گی۔

’’Punjab Castes‘‘ کے مصنف 30 اگست 1847ء کو پیدا ہوئے۔ سینٹ پیٹرز کالج اور سینٹ جانز کالج کیمبرج سے تحصیل علم کے بعد 1870ء میں انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ ملازمت کی ابتدا میں ہی اُنھیں ضلع کرنال کا سیٹلمنٹ آفیسر اور پنجاب میں مردم شماری کے کام کا نگران اعلیٰ بنا دیا گیا۔ بعدازاں اُنھوں نے پنجاب میں ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن اینڈ فنانشل کمشنر، ریونیو اور ایگری کلچرل ڈیپارٹمنٹ میں حکومت ہند کے سیکرٹری، وسطی صوبہ جات کے چیف کمشنر اور وائسرائے کی کونسل کے ممبر کی حیثیت میں بھی کام کیا۔ 1907ء میں وہ پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر بنے لیکن 21فروری 1908ء میں انتقال کر گئے۔