وِل ڈیورانٹ اور ایریئل ڈیورانٹ نے اپنی مشہور اور نہایت قابلِ مطالعہ کتاب ’تہذیب کی کہانی‘ کی 11 جلدیں مکمل کرنے کے بعد اُس میں سے اخذ کردہ نتائج اِس مختصر سی کتاب میں پیش کیے ہیں۔
1968ء میں پہلی بار شائع ہونے والی یہ کتاب مختصراً مگر دوٹوک اور تحریک انگیز انداز میں بتاتی ہے کہ ہمیں کیا کیا معلوم نہیں، اور یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہو گا کہ کیا کیا جاننا ہے! مصنفین نے مختلف حوالوں سے سارے تاریخی نظریات کا خلاصہ ہمارے سامنے رکھنے کے علاوہ سوچنے سمجھنے کی راہیں بھی سجھائی ہیں۔
ول ڈیورانٹ لکھتا ہے: ’سٹوری آف سویلائزیشن‘ (تہذیب کی کہانی) 1789ء تک مکمل کرنے کے بعد ہم نے دس کی دس جلدوں کو دوبارہ پڑھا تاکہ ایک نظرِثانی شدہ ایڈیشن جاری کیا جائے جس میں حقائق یا پرنٹ کی متعدد خطاؤں کو درست کر دیں۔ اس عمل میں ہم نے ایسے واقعات اور تاثرات نوٹ کیے جو موجودہ معاملات، مستقبل کے امکانات، انسان کی فطرت اور ریاستوں کے طرزعمل پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ (متن میں ’سٹوری آف سویلائزیشن‘ کی مختلف جلدوں کے حوالہ جات بطور سند نہیں بلکہ متعلقہ مثالوں یا توضیحات کے طور پر دیے گئے ہیں)۔ ہم نے ساری کتاب کا جائزہ لے لینے تک اپنے نتائج کو مؤخر کیے رکھا، لیکن بلاشبہ ہماری آرا نے مواد کا انتخاب کرتے وقت ضرور اثر ڈالا۔ یہ مضامین اسی کاوش کا نتیجہ ہیں۔ یہ متعدد ایسے خیالات کو دُہراتے ہیں جو ہم نے اور ہم سے پہلے دیگر لوگوں نے بیان کیے۔ ہمارا مقصد اچھوتا پن نہیں بلکہ ہمہ گیر پن ہے؛ ہم انسانی تجربے کا ایک جائزہ پیش کر رہے ہیں، نہ کہ کوئی ذاتی انکشاف۔‘‘

