یہ کتاب نفسیاتی معالج کے طور پر مصنف کے فلسفۂ محبت کے علاوہ تجربات، کیس سٹڈیز اور مشاہدات پر مشتمل ہے۔ اُس نے سہولت کی غرض سے ’’خدا‘‘ کا ذکر جابجا روایتی مفہوم میں کرنے کا جواز پیش کیا۔ اِس سے اُس کی مراد ایک محبت و شفقت کا احساس ہے۔ بطور ماہرِ نفسیات اُس نے کتاب میں دو بنیادی مفروضات کو ابتدا سے ہی واضح کیا۔ اوّل، ذہن اور روح یا نفس میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا گیا، چنانچہ روحانی نشوونما اور ذہنی نشوونما کی منزل کے درمیان بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ دوسرا مفروضہ اِس عمل کا بہت پیچیدہ، محنت طلب اور ساری زندگی پر محیط ہونا ہے۔ نفسیاتی علاج کو اگر ذہنی اور روحانی نشوونما کے عمل میں معاون بننا ہے تو اُسے ایک تیز رفتار اور سادہ عمل نہیں ہونا چاہیے۔

صفحات: 262 قیمت 1200