باپ عموماً اچھے یا بُرے نہیں ہوتے، یا دونوں ہوتے ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ آپ اُنھیں اچھے یا بُرے کی کسوٹی پر نہیں پرکھتے۔ یہ کام آپ عموماً دوسروں کے باپوں اور سسروں وغیرہ کے ساتھ کرتے ہیں۔ انیسویں صدی میں ٹھگوں کے سربراہ امیر علی ٹھگ نے پکڑے جانے کے بعد پانچ سو سے زائد جانیں لینے کا اعتراف کیا۔ وہ ایک اچھا، شفیق اور ہمدرد باپ تھا۔ جن لوگوں کو آپ بطور فراڈیا، بے ایمان، راشی، مکار، وغیرہ کے طور پر جانتے ہیں، وہ بھی شاید اپنے بچوں کے لیے محترم اور پیار کرنے والے افراد ہی ہوں، یا اُنھیں ایسا سمجھتے ہوں۔

نفسیات کے ایک دو طلبہ کی اسائنٹمنٹ کے سلسلے میں سروے فارم پُر کرنے کا اتفاق ہوا جو گھر میں والدین کے ساتھ تعلق کے بارے میں تھا۔ سوالات پوچھے گئے تھے کہ کیا باپ نے جب بچپن میں مارا تو وہ یادیں آپ کو اب بھی اذیت دیتی ہیں؟ بچپن میں باپ سے کھائی ہوئی مار نے آپ کے اندر کیا غم و غصہ یا ناراضگی یا الجھن پیدا کی؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سوالات اُن معاشروں سے آتے ہیں جہاں فیملی کا روایتی ڈھانچہ ٹوٹ چکا ہے یا ہمارے جیسا، اور وہ بچوں اور والدین کو ایک فنکشنل سے تعلق میں لیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں تو جب تک کُٹ نہیں کھا لیتے تھے، تب تک باپ کو خیال رکھنے والا باپ ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے معاشرے میں لڑکوں کے ٹراما اور طرح کے ہیں۔ ایسے حساس معاملات کا ہمیں دکھ نہیں ہوتا۔

ہم جانے یا انجانے طور پر باپ سے کافی کچھ سیکھتے ہیں۔ اگر باپ کو اچھی موسیقی سنتے ہوئے سنا ہے تو یہ چیز شاید ہمیشہ کے لیے راسخ ہو جائے گی، البتہ بُری یا گھٹیا موسیقی بعد میں ذوق کی ترقی پر بہتر ہو سکتی ہے۔ باپ کا روٹین، ترجیحات، سبھاؤ، حتیٰ کہ ظالمانہ رویہ بھی ہمارے ساتھ رہتا ہے، اور اگر شعوری کوشش نہ کریں تو آگے بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ خصوصاً اگر باپ طویل عمر پائیں تو زیادہ کچھ چھوڑ جاتے ہیں۔ اور اگر جسمانی طور پر محتاج اور ذہنی لحاظ سے بے کار ہو جائیں تو اپنے روگ بھی منتقل کرتے ہیں۔

آپ تاریخ میں کسی چیز کو نہیں بدل سکتے، کیونکہ ایک چیز بدلنے سے شاید سب کچھ بدل جائے۔ یہی بات ذاتی اور شخصی تاریخ پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ جیسا باپ یا جیسا بیٹا مل گیا، بس وہی فائنل ہے۔ اور اِس پر کوئی فیصلہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔ یہ کام آپ کو اگلی نسل میں کرنا پڑتا ہے۔ اور ایسا شاذونادر ہی ہوا کرتا ہے۔

خوش اتفاقی سے مجھے اپنے باپ سے مثبت کم اور منفی باتیں زیادہ ملیں۔ وہ جینے کے ہنر جانتے تھے، اُنھوں نے سیکھے تھے، کسی فلسفے کے بغیر۔ لکڑی سے بڑے صندوق بنانے سے لے کر بالٹیوں کے تھلے لگانے تک، چولہے کی بتیاں ڈالنے سے لے کر سفیدی کرنے تک، نہایت عمدہ پینٹنگ اور ڈرائنگ سے لے کر استری اور پنکھا ٹھیک کرنے تک، پنسل پورٹریٹ بنانے سے لے کر شہتوت کے درخت کو بطور بالن استعمال کرنے تک، کیاری میں گاجریں اور پالک اُگانے سے لے کر فوٹوگرافی تک۔ اتنے زیادہ ہنر ایک بندے میں ہونا حیرت انگیز ہے۔ وہ مطالعہ بھی کرتے تھے۔ میں نے ریڈر ڈائجسٹ اور روسی سپوٹنک کے علاوہ چین باتصویر بھی اُنھی کی بدولت پڑھنا سیکھا۔ اِس سے آدھے کام بھی آتے ہوں تو آپ کو دوسروں کی زندگیوں میں ٹانگ اَڑانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

اُنھوں نے عملی طور پر اور کسی فلسفے کے بغیر دکھایا کہ زندگی اور اُسے گزارنا دو الگ الگ چیزیں نہیں۔ نہ کبھی کسی کو پاس بٹھا کر زندگی سے ’’اخذ کردہ‘‘ نتائج سمجھائے، نہ نصیحت کی، نہ لمبے شکوے کیے، نہ شریکا بازی سکھائی۔ میں نے سگریٹ نوشی شروع کی تو کمرے میں نہیں آتے تھے، اور بس ایک بار کہا، ’’یار، مجھے دیکھ لے۔‘‘ وہ سگریٹ نوشی اور دمہ کی وجہ سے دل کی بیماری کا شکار ہو گئے تھے۔ اُن کی پیروی میں پورٹریٹ بنانا شروع کیے تو صرف ایک بار سمجھایا کہ ’’اگر پورا دن کان یا ناک بنانے پر لگ جائے تو کوئی بُری بات نہیں۔ یہ عجلت نہیں کرنی چاہیے کہ تصویر کا خاکہ جلد از جلد مکمل کر کے دیکھو۔‘‘ یا پھر ڈرائیونگ سکھانے کے بعد کہا کہ ’’ایکسلریٹر تو کوئی بھی بے وقوف دبا لیتا ہے۔ اُس کے نتائج کو ذہن میں رکھنا اصل بات ہے۔‘‘

اُنھوں نے مذہبی شعائر پر عمل کروانے کی کبھی خصوصی کاوش نہ کی۔ شاید امی کے کہنے پر ایک دفعہ زیادہ ڈانٹا تو میں گھر سے بھاگ گیا۔ ایک رات بعد اُنھیں بھی سمجھ آ گئی اور مجھے بھی۔ یہ معاملہ پھر کبھی بیچ میں نہ آیا۔ جب فرانز کافکا کے ناول کا ترجمہ چھپ کر آیا تو اُنھوں نے مکمل پڑھا۔ اُن کی ایک پرانی ڈائری میں امرتا کا شعر لکھا ہوا پڑھا تھا: باہمن نے ڈانگ اُلاری ہے، مُلا نے سوٹا پھڑیا ہے، رب اپنی جان بچاؤن لئی…..۔

اُن میں منفی باتیں یا برائیاں بھی تھیں۔ مثلاً مستقبل کی پلاننگ نہ کرنا، مالی بہتری کے لیے کوشش نہ کرنا۔ اگر وہ ریٹائرمنٹ کے بعد گاڑی لینے کی بجائے پلاٹ لیتے اور مکان بنا لیتے تو شاید میری زندگی کا دھارا بھی کسی اور رُخ پر بہتا۔ مگر تاریخ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کام اگلی نسل کی زندگی کے ساتھ کرنا پڑتا ہے۔

میں نے کئی دوستوں اور عزیزوں کے باپوں کی زندگیوں کو مشاہدہ کیا ہے کہ کیسے وہ موت کی طرف مرحلہ بہ مرحلہ بڑھنے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ زیادہ تر کی مرادیں اِس لیے پوری نہ ہو سکیں کیونکہ وہ بے بنیاد تھیں۔ بس وہ اُن کلفتوں کا خراج ادا کرتے رہے جو گزشتہ سالوں میں بیوی کو دی تھیں۔ کبھی موقعہ ملا تو ان کی کہانیاں بھی لکھوں گا۔ فی الحال قوتِ قلم کو کسی اور مقصد کے لیے بچا رہا ہوں۔

کوئی دو عشرے قبل دو نومبر کو اطلاعی فون سے پہلے آج کے دن اُن کا آخری فون آیا اور 15 نومبر کو عید کے روز تدفین ہوئی۔

شیئر کریں