1760ء میں جووانی باتستا (Giovanni Battista) کی تخلیق کردہ اس پینٹنگ کا نام ہے ’’اپالو ڈیفنی کا تعاقب کرتے ہوئے۔‘‘ پینٹنگ کو مغربی آرٹ کی Rococo روایت میں شامل کیا جاتا ہے جس میں رنگ شوخ، پیکر اینٹھے ہوئے اور کپڑے جیسے سنگ تراشی کے ہوتے ہیں۔ روشنی اور رنگوں کی شوخی اضافی نکھار لاتی ہیں۔ یہ دنیا کی عظیم پینٹنگز میں سے ایک ہے۔

How to Read Painting میں اِس کی وضاحت کی گئی ہے۔ ایک نوجوان آدمی ٹیلے سے نیچے اترتے ہوئے ایک عورت کی جانب انگلی سے اشارہ کر رہا ہے۔ عورت کی انگلیوں میں سے جیسے پتے پھوٹ رہے ہیں۔ سارے منظر میں ایک واضح حرکت سمائی ہوئی ہے۔ آرٹسٹ نے رنگوں کو توانائی سے بھر دیا۔ یہ کسی بھی لمحے بے حرکت معلوم نہیں ہوتی۔ جیسے اپالو کا ڈیفنی کا تعاقب کرنا کبھی ختم ہی نہیں ہو گا!

کہانی کے مطابق ڈیفنی ایک شکاری اور شکار کی دیوی ارتمس کی پجارن تھی۔ ارتمس کی طرح اس نے بھی شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ اپالو دیوتا ڈیفنی کی محبت میں گرفتار ہوا اور جب اس نے عاشق کی پیش دستیوں کو مسترد کیا تو وہ جنگل میں اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔ ڈیفنی نے اپنے باپ سے مدد مانگی اور جب اپالو اس کی جانب بڑھا تو وہ ایک لارل درخت میں تبدیل ہو گئی۔ دکھی اپالو نے لارل کو اس کا مقدس درخت بنا دیا۔

سو عورت یعنی ڈیفنی کی انگلیوں سے پتوں کی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔ آرٹ کے نقاد Tiepolo نے مشورہ دیا کہ پینٹنگ کے وسط میں ایک X تصور کرنا چاہیے۔ یعنی ایک لائن بالائی دائیں کونے سے نچلے بائیں کونے تک آئی اور دوسری لائن بالائی بائیں کونے سے نچلے دائیں کونے تک۔ اب تصویر کے دائیں نچلے کونے کو دیکھیں اور نظر کو پہاڑی کی ڈھلوان کے ساتھ ساتھ اوپر ڈیفنی کے جسم کی طرف لائیں۔ اب بائیں نچلے کونے سے نظر کو بوڑھے آدمی کے جسم اور اپالو کے آگے بڑھے ہوئے بازو سے دائیں بالائی کونے کی طرف لے کر جائیں۔

ایک سادہ سی ہیئت کو استعمال کر کے آرٹسٹ نے آڑی لائنوں کاکی ایک سیریز بنائی جو دیکھنے والے کی آنکھوں کو مختلف سمتوں میں لے کر جاتی اور یوں تصویر کے مختلف عناصر کو منسلک کرتی ہے۔

اپالو اولمپس کے بارہ معبودوں میں سے ایک ہونے کے ناطے شباب اور جسمانی خوب صورتی کی تجسیم تھا۔ اُس کے شوخ رنگ لباس پر غور کریں۔ اُس نے ایک پھڑپھڑاتی ہوئی پیلی اوڑھنی لے رکھی ہے۔ اُس کے بال بھی سنہری ہیں، اور سر کے پیچھے ایک ہالۂ نور آسمان پر سورج جیسا ہے۔ کلاسیکی مجسموں میں اُسے کامل مردانہ جسم کے طور پر پیش کیا گیا، اور رومن دور میں وہ سورج کا دیوتا بن گیا۔ ایک ننھا سا کروب (’’طاعت کے لیے کچھ کم نہ کروبیاں‘‘ تو یاد ہو گا!) فرشتہ ایک سفید عبا کی تہوں میں چھپا ہوا ہے۔ یہ محبت اور سیکس کا یونانی دیوتا ایروس ہے جو رومنوں کا کیوپڈ بن گیا۔ اُس نے تیر چلا کر شعلۂ عشق روشن کیا۔ یہ ساری اُسی کی شرارت تھی، لہٰذا وہ چھپ رہا ہے۔ بوڑھا آدمی دریائی دیوتا پینیئس یعنی ڈیفنی کا باپ ہے۔

کروب یعنی کیوپڈ کے سنہری تیر نے اپالو میں آتش شوق بھڑکا اور سیسے کا تیر مار کر ڈیفنی کو سرد کر دیا۔ اپالو اُس پر عاشق ہوا ،لیکن ڈیفنی گریزاں ہے۔ یہ بے مہر محبت کی زمانوں پرانی کہانی ہے۔ اپالو نے تعاقب کیا تو ڈیفنی نے اپنے باپ سے مدد مانگی: ’’زمین شق کر دو تاکہ میں اُس میں سما جاؤں، یا میری صورت بدل دو جس نے مجھے خطرے میں ڈالا! مجھے آئندہ کے لیے اس آدمی سے نجات دلا دو!‘‘ تب باپ نے ڈیفنی کو لارل کے درخت میں تبدیل کر دیا۔ مصور اِس کایا کلپ کے لمحے کو پیش کرتا ہے۔ اُس کے ہاتھ شاخوں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور ٹانگیں تنا بن گئی ہیں، گردن چھال جیسی کھردری اور سخت ہے۔ اِس کایا کلپ کو ابدی پاک دامنی کی علامت کہا جا سکتا ہے۔ یعنی پاک دامنی نے ہوس کو شکست دے دی۔

خدا کرے کہ ہم سبھی وِل ڈیورانٹ کی بدولت آرٹ اور ادب، تاریخ اور تہذیب کے سنہری تیروں سے زخمی ہوں۔

شیئر کریں