آرٹ کا ایک مقصد اور ہدف یہ ہے کہ ہمیں روزمرہ زندگی کی بک بک سے ارفع ہونے کا احساس دلائے۔ ہماری روزمرہ زندگی کو حامد میروں کے تجزیوں اور چرب زبان صنم جاوید اور میمز سے بھر دیا گیا ہے۔ ایسے میں آرٹ سے رجوع کرنا زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ How to Read Painting کا ایک صفحہ پڑھتے ہوئے سوچا کہ قارئین کو بھی اس میں شریک کروں۔

آسٹریا کے آرٹسٹ گستاو کلمٹ نے یہ پینٹنگ ’The Kiss‘ 1908ء کے قریب بنائی تھی۔ اِس کا موضوع عورت اور مرد کی محبت ہے۔ لیکن غور سے دیکھنے پر ایک مختلف اور زیادہ پیچیدہ حقیقت اُبھرتی ہے۔ سب سے پہلے توجہ حاصل کرنے والی چیز عورت کے پیروں کی پوزیشن ہے۔ لگتا ہے کہ وہ دنیا کے کنارے کو گرفت میں لے رہے ہیں۔ اُس سے پرے جو کچھ بھی ہے غیر یقینی ہے: ذرات والا سنہری غبار جو شاید آسمانِ شب ہو یا پھر کسی طوفان بادوباراں کی پھوار یا پھر چٹان کے فوراً بعد کھائی۔ عورت کے پیروں کے پنجے اندر کو مڑے ہوئے ہیں اور ایڑیاں نامعلوم کی جانب ہیں۔

جذبۂ شوق لبریز ہے، محبت کرنے والے بغل گیر ہیں اور ایک دوسرے کے گرد لپٹے ہیں جو مسرت اور خوف دونوں کا اظہار ہے۔ ان کے جسمانی انداز میں ہر چیز رضامندانہ ملاپ کا اشارہ دیتی ہے۔ عورت کی بانہیں مرد کے گلے میں حمائل ہیں؛ مرد اُس کا چہرہ چومنے کے لیے جھکا ہوا ہے، وہ بیک وقت پُرجوش اور بھروسا کرنے والے ہیں۔ اس میں آنکھیں موجود نہیں۔ عورت کی آنکھیں بند ہیں اور مرد کی نظر سے اوجھل۔ یعنی ہماری نگاہیں اُن کی قربت میں دخل انداز نہیں ہو سکتیں۔ ہماری نظریں کبھی اُن سے چار نہیں ہوں گی، ہم کبھی اُن کے تخلیے میں مداخلت نہیں کر پائیں گے۔

دونوں پیکروں کا لباس طلائی ہے۔ اپنی پینٹنگز پر براہ راست سونے کا پترا استعمال کرنا کلمٹ کی پسندیدہ تکنیک تھی۔ آخر اُس کا باپ ویانا کا ایک زرگر تھا۔ علاوہ ازیں اُس نے اٹلی کے شہر راوینا میں طلائی موزیک دیکھ رکھے تھے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ دائروں اور مستطیل اشکال کا کھیل مرد اور عورت کے جسموں کی خاکہ کشی کے علاوہ اُن کے باہمی تناؤ کا اظہار بھی ہے۔ اِن شکلوں کو نر اور مادہ اعضا کا تجریدی نمائندہ سمجھنا چاہیے۔ پینٹنگ کو زور دار تاثر دینے والی چیز جسموں کو پیش کرنے کا انداز ہے: دو چاہنے والوں کے ہاتھ، ٹانگیں اور چہرے، جو تجریدی عناصر کو بڑی سہولت سے جوڑتے ہیں۔ غور کریں کہ عورت کا بایاں بازوں کیسے تجریدی اشکال میں سے باہر نکلتا اور اندر جاتا ہے۔ شاید یہ خارجی اور اندرونی دنیا کے ساتھ تعلق ہے۔ ایک رائے کے مطابق یہ اورفیئس اور یوریڈیچے ہیں – اساطیری شوہر اور بیوی جو پاتال کے سِرے پر حادثاً جدا ہو گئے تھے۔

رومن شاعر ورجل کے مطابق یوریڈیچے کو شادی کے فوراً بعد سانپ نے ڈس لیا، لہٰذا ہم لمبی گھاس میں اُس کا ٹخنہ ننگا دیکھتے ہیں۔ یوریڈیچے کے مر جانے پر اورفیئس کا دل ٹوٹ گیا اور اُس نے پاتال میں جانے کا فیصلہ کر لیا تاکہ یوریڈیچے کو واپس لا سکے۔ اُس نے اپنا بربط بجایا اور پاتال میں اُتر گیا۔ مگر یوریڈیچے کو واپس لے جانے کے لیے شرط رکھی گئی کہ وہ مڑ کر نہیں دیکھے گا۔ وہ یوریڈیچے کو پیچھے پیچھے لے کر زندوں کو دنیا میں آ گیا مگر بے تابی میں مڑ کر کندھے کے اوپر سے بیوی کو دیکھ لیا۔ اُسی لمحے یوریڈیچے واپس مُردوں کے ملک میں چلی گئی۔

شاید کلمٹ نے یہی کہانی پیش کی ہو؟ دونوں عاشق ابھی ابھی پاتال سے واپس آئے ہیں اور دوبارہ ملاپ کے آخری لمحات میں کھوئے ہیں؟ کیا کلمٹ نے اورفیئس کے ’’مڑ کر دیکھنے‘‘ کو ایک بوسے میں قید کر دیا؟

آرٹ اور بڑا ادب بہت کچھ بتا کر بہت کچھ ان کہا چھوڑ دیتا ہے۔

شیئر کریں