طلبہ پر لاٹھی چارج کی وجہ سے انڈیا کے ایک موسیقار کے لیے بات کرنا مشکل ہو گیا، نصیرالدین شاہ نے بھی اپنے بوڑھے شفیق آنسو تقریباً بہا ڈالے۔ شبانہ اعظمی بھی ہڑتالی طلبہ کو گلے لگاتے ہوئے روئی۔ اروندھتی رائے اظہار یک جہتی کرنے احتجاجیوں کے پاس گئی۔ ان اور دیگر اہم شخصیات نے حیرت اور دکھ کا اظہار کیا کہ حکومت نے طلبہ پر لاٹھیاں کیوں برسائیں، وہ ملک کا مستقبل ہیں۔

انڈیا نے شاید ایک دن کے لیے بھی آمریت نہیں دیکھی۔ ان کے ہاتھوں پر جمہوریت کی مہندی ہی لگی، خواہ رنگ نہیں چڑھا۔ وہاں بھی نا انصافی، رشوت، دھاندلی، جہالت، سرکار کی نااہلی وغیرہ موجود ہیں، اور بھرپور انداز میں موجود ہیں۔ یہ موازنہ الگ بات ہے۔ لیکن ان کے پاس مہندی تو ہے۔ ان کے ہاتھ کی لکیریں تو نہیں کھرچی گئیں۔

اروندھتی کی ویڈیو دیکھتے ہوئے ذہن میں شیو کمار بٹالوی آیا۔ کرماں دی مہندی دا سجنا!/رنگ کویں دس چڑھداواسے–جے قسمت مرچاں دے پتر/پیٹھ تلی تے لائے وے! یعنی اگر قسمت مرچوں کے پتے پیس کر ہاتھ پر لگا دے تو کرموں (اعمال) کی مہندی کا رنگ کیسے چڑھے۔ جن کے ہاتھوں کی لالی مرچوں کے پتے پیس کر لگانے کا نتیجہ ہے، جن کی وقت گھڑی کی ریت گلے میں پھنس گئی ہے، جو تاریک راہوں میں مارے گئے، جن کے لیے کوئی اروندھتی یا عاصمہ نہیں رہی، وہ کیا کریں؟

شیو کمار کی ایک اور نظم ہے: ’’میں کنڈیالی تھور وے سجنا۔‘‘ احمد جاوید صاحب نے ایک وی لاگ میں کہا تھا کہ مجھے شاعری کے ’’بارے‘‘ میں بات نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اُنھیں چاہیے کہ اِس نظم ’’کنڈیالی تھوہر‘‘ کا مطالعہ تو وہ کر نہیں سکتے، کسی سے سمجھ لیں۔ اُنھیں وجودیاتی اور علمیاتی مرہم ملے گا۔ میں یہاں اس لمبی نظم کی کچھ لائنیں ہی اردو میں دے رہا ہوں۔ (کنڈیالی تھور ایک بے برگ پودا ہے جو صحرائی علاقوں میں اُگتا ہے)۔

’’میں کانٹے دار تھور ہوں، جو اجاڑ علاقے میں اُگی….۔ یا ایسا دیا جو پیروں کی قبر پہ جلتا ہے، یا کوئی نیل کنٹھ ہوں جس کے رگیں سوکھ گئی ہیں۔ میں موتیے کی ڈالی ہوں جس کا بالن (ایندھن) بن گیا یا مروے کا پھول جسے ٹھونگے مارے گئے۔ یا کسی پرندے کا کوئی چوزہ جس کی ابھی آنکھ نہیں کھلی تھی کہ کسی مالی نے غلیلا مار دیا۔ میں گزرگاہ سے ہٹ کر اُگی ہوئی تھور ہوں جسے کوئی مالی سینچنا نہیں چاہتا۔ میں وہ بدقسمت ہوں جس کی ڈولی کہاروں نے ہی لوٹ لی، جس کو باپ نے چُوڑیاں پہنانے کی بجائے اُتار لیں۔ میری عمر کی چادر دھجی دھجی (لیرو لیر) ہو گئی۔ وصل کے لیے بچھائے گئے پلنگ ٹوٹ گئے….۔ میں شدید گرمی کی دوپہروں کو ساون کیسے کہوں…..۔‘‘

’’میری جڑوں میں کالے پھنیئر ناگوں کے بِل ہیں۔ میں وہ مرغابی ہوں جو کسی شکرے نے دبوچ لی، یا کوئی مَینا جس کے پر کووں نے نوچ لیے۔ یا میں سسی کی دوسری بہن ہوں جس کا کام محض رونا ہے۔ اے باغ کے مالک، اب تیرے باغ میں دل نہیں لگتا۔‘‘

لیکن آئین کے مطابق اور احمد جاوید کی تشریح میں شیو کمار بٹالوی ہمارا نہیں۔ ہمارے تو فیض اور جالب بھی ہائی جیک کر لیے گئے، مشرف لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے گنگناتا تھا۔ خود فریبی سی خود فریبی ہے۔ ہمیں موازنہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہماری اپنی حقیقت ہے۔ ہمارا کوئی دنیاوی آئیڈیل نہیں۔ ہم کنڈیالی تھور ہیں۔

Yasir Jawad/یاسر جواد

شیئر کریں