میرے زیادہ تر دوست اپنے اپنے دور میں سیاسی کارکن اور نظریہ پرست رہے ہیں۔ اب وہ اپنے بچوں کو سمجھاتے ہیں کہ اب کون سا انقلاب اور کون سا خواب؟ یہ سب بکواس ہے۔ انقلابی نظریاتی گروپ بھی این جی اوز بن چکے ہیں جہاں ذہنی آزادی سے زیادہ جنسی آزادی کا پرچار کیا جاتا ہے۔ اور ذرا مذہبی انداز میں تبدیلی کی جدوجہد کرنے والے تو اُس جنسی آزادی کا حَظ اُٹھا بھی چکے ہوتے ہیں جن کا پرچار چند روشن خیال کرتے پھرتے ہیں۔

میرے دوست ڈرتے ہیں کہ جذبات کی رَو میں بہہ کر کوئی بیٹا تھانے میں نہ پہنچ جائے، اُس پر کوئی پرچہ وغیرہ ہو گیا تو کل کو پولیس سرٹیفکیٹ میں حوالہ آئے گا اور تعلیم کے لیے باہر آنا مشکل ہو جائے گا یا پھر محلے والوں کو وضاحتیں دینا پڑیں گی کہ پرچہ غلط بنا تھا۔ وہ بچوں کو بتاتے ہیں کہ نظریہ وغیرہ کچھ نہیں ہوتا، یہ کیمبرج کے کورس میں پڑھی ہوئی سب حقوق وغیرہ کی باتیں بکواس ہیں۔ ہمارے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ یہ چیز صرف طاقت وروں کو ہی ملتی ہے۔

مڈل کلاس دوست اپنے بچوں کو اخلاقی درس نہیں دے پاتے، کیونکہ شہروں میں روایتی خاندان کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں، اور ویسے ہی فیملی ٹائم اب تلاش کرنا پڑتا ہے۔ کوئی اپنے کمرے سے نکلے گا، آن لائن سیشنز ختم ہوں گے، فون کالز کا سلسلہ مکمل ہو گا تو فیملی ٹائم ملے گا۔ بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ ٹیلی وژن پر جو کچھ بتایا جا رہا ہے، سب بکواس اور جھوٹ ہے، کوئی خبر سچی نہیں۔ اور وہ نیٹ فلکس کو سچ سمجھتے ہیں، جیسے وہ خود کمانڈو اور کلف ہینگر یا سوداگر فلموں کو سمجھا کرتے تھے۔

جو تھوڑے زیادہ پڑھے لکھے دوست ہیں، وہ بچوں کو بٹھا کر اُن کے مضامین کی مبادیات سمجھانے اور concepts کلیئر کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ فوراً دکھاوا کرتے ہیں کہ سب سمجھ میں آ گیا۔ وہ بس چاہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ بکواس بند کریں اور وہ اسائنمنٹ مکمل کریں۔ وہ اُنھیں لگے ہاتھوں یہ بھی بتاتے ہیں کہ اُن کی اپنی سالانہ کالج فیس چار سو روپے تھی، جبکہ وہ روزانہ آٹھ سو کا تو پٹرول یا اوبر کا کرایہ ہی خرچ ڈالتے ہیں۔

وہ بچوں کے خواب دیکھنے کی صلاحیت کو مسمار کرتے ہیں۔ انسان کی سب سے بڑی خوشی ناممکن کے خواب ہی رہے ہیں۔ لیکن نہیں، وہ بچوں کو اطاعت، خوف، لاچاری، عاقبت اندیشی، وغیرہ کے لیکچر دیتے ہیں۔ وہ بھی ایک طرح سے سچے ہیں، شہر میں پولیس کا عفریت گردش کر رہا ہے، اور ذہنوں پر خصی الفکر اساتذہ اور غامض مابعدالطبیعیات کا۔ میرے کئی دوست ایسا رویہ اپناتے ہیں، اور میں بھی کبھی کبھی۔ اگر یاد رکھیں کہ پچاس سال عمر ہونے کے بعد ایسا کرنے سے بچنا ہے تو شاید بچے زیادہ سمجھ داری سے سوچ سکیں، اپنی غلطیاں کریں اور سیکھیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی حقیقت یوٹوپیا کے بغیر موجود نہیں ہو سکتی۔ہم صرف اِن دونوں کا تعلق ہی سمجھا سکتے ہیں۔

شیئر کریں