گماشتہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک بیان سے سیاسی و انتظامی مستقبل کے بارے میں ایک بحث شروع ہوئی ہے جو ’’ہمارے‘‘ سیاسی مستقبل سے کہیں زیادہ اُس لوٹ مار کے قانونی اور آئینی ڈھانچے سے متعلق ہے۔ ہم اِس میں خاموش تماشائی ہیں۔ پرانا نظام نہیں چل پایا، کیونکہ اُس میں ہم اور آپ کبھی کبھی بول پڑتے تھے۔ لہٰذا اب گونگے کے لیے نئی مٹھائی تیار کی جائے گی۔ میرے ایک دوست صدیق خان نے ’’دی نیوز‘‘ میں موجودہ سیاسی بدصورت حال کا تجزیہ کیا ہے جسے مختصر کر کے یہاں دے رہا ہوں۔
’’محسن نقوی نے نئی انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کی بات کی ہے۔ آپ کا اس کی تجویز سے اتفاق کرنا یا نہ کرنا یک طرف رکھ دیں۔ کسی بھی علاج پر بحث کرنے سے پہلے ہمیں ایک زیادہ بنیادی سوال اُٹھانا ہو گا: خرابی کیا پیدا ہوئی، اور کس قسم کی اصلاح اِسے درست کر سکتی ہے؟ اصل سوال یہ نہیں کہ کیا اداروں کو تبدیل ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیسے تبدیل ہوں۔ کیا وہ سیاسی بحث، جمہوری اتفاقِ رائےا ور عوامی تجربے کے نتیجے میں ارتقا پائیں یا اُنھیں یک دم نئے سرے سے ڈیزائن کر کے امید لگائی جائے کہ نیا ڈھانچہ پرانے مسائل حل کر دے گا؟ یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان پہلے بھی اِس راہ پر سفر کر چکا ہے۔
’’پاکستان شرائط سے بھرپور آئی ایم ایف کے پروگراموں کے سہارے چل رہا ہے جن میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنا، ریونیو جمع کرنے کو فعال بنانا اور سب سے بڑھ کر غیر ترقیاتی اخراجات گھٹانا شامل ہیں۔ بجٹ کی تیاری اِنہی کے مطابق ہوتی ہے۔ اور ٹیکس کا زیادہ تر بوجھ انکم ٹیکس پر ڈالا جاتا ہے۔ نئے صوبے بنانا محض نئی حدود کھینچنا ہی نہیں۔ ہر صوبے کو اپنی اسمبلی، وزیراعلیٰ گورنر، کابینہ اور سارا نظام درکار ہو گا (موجودہ نظام کے مطابق)۔ یہ کوئی ایک بار کے اخراجات نہیں۔ تنخواہیں، پنشنز، سرکاری رہائش گاہیں، ٹرانسپورٹ، سکیورٹی انتظام وغیرہ ہر سال بڑھتے جائیں گے، جبکہ آئی ایم ایف حکومتی اخراجات گھٹانے پر زور دے رہا ہے۔
’’اِس سطح کی کسی بھی تجویز کے لیے ایک سوال کا جواب دینا پڑے گا: کیا پاکستان اپنی موجودہ مالی حالت میں اِس طرح کی تشکیل نو کا بوجھ سہہ سکتا ہے؟ تاریخ ہمیں کچھ اور بتاتی ہے۔ پرویز مشرف نے گڈ گورننس لانے اور لوکل باڈیز کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ اِس اصلاحی کوشش میں سارے انتظامی ڈھانچے کو ہی لپیٹ دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز غائب ہو گئے اور ایک نئی ضلعی انتظامیہ سامنے آئی، مگر دس سال تک ہی رہ سکی۔ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ پہلے سے موجود تھی: میونسپل کمیٹیاں، میونسپل کارپوریشنز، اور ضلعی کونسلیں ناکارہ سہی مگر موجود تھیں۔ اُنھیں مستحکم اور مالی اعتبار سے خود مختار بنایا جا سکتا تھا۔ ساتھ ساتھ اصلاحات بھی چلتی رہتیں۔ وقت گزرنے پر انتظامی ڈھانچہ کام کرنے لگتا اور سیاسی عمل بھی مضبوط ہوتا۔ مگر اِس کے برعکس ہوا۔
’’سیاسی اور انتظامی ادارے الگ تھلگ رہ کر ارتقا نہیں پاتے، بلکہ خود کو بنانے والے معاشرے کے ساتھ نشوونما پاتے اور پختگی حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے آئینی سفر میں بار بار رکاوٹیں آئیں۔ مختلف ادوار میں تعطل نے تسلسل کو ختم کیا۔ چنانچہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ فلاں دور میں کون حکمران تھا۔ ہم اِس سوال کو نظرانداز نہیں کر سکتے کہ اِس تعطل نے بار بار خود ریاست کا کیا حشر کیا۔ وقت کے ساتھ ان بدنمائیوں نے اپنے اثرات دکھانا شروع کیے۔ جسے آج آپ ’’نظام کا انہدام‘‘ یا ناکام کہہ رہے ہیں، وہ دراصل طویل تر تاریخی عمل کا حاصل ہے۔
’’تبدیلی کو قانونی اور اخلاقی جواز اس کا مقصد نہیں بلکہ حصول کے لیے اپنایا گیا طریقہ عطا کرتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی اپنی ریاستی ناکامیوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے؟ اور اِن کے اسباب سمجھنے کی کوشش کی ہے؟‘‘
Yasir Jawad