کوئی اپنے چھوٹے سے بچے کے سر کو بلیڈ سے زخمی کرتا ہے، ایک گروہ کے لوگ باری باری جلتے بجھتے کوئلوں کے اوپر سے بھاگتے ہوئے گزرتے ہیں، ایک شخص نوکیلے کیلوں والے پھٹے پر لیٹتا اور خود کو آگے گھسیٹتا ہے، کوئی سادھو ناخن بڑھاتے رہنے کی منّت مانتا ہے، کوئی کالی دیوی کی طرح زبان باہر نکال کر ڈراتا اور سر پہ آگ لگاتا ہے، کوئی والہانہ پن کے عالم میں سرخ گرم لوہا جسم کے مختلف حصوں پر لگاتا ہے، کوئی میلوں پیدل چلنے کی تپسیا تو عام چیز ہے، خود کو دُرّے مارنا بھی انسانی حافظے میں موجود ہے، کوئی دودھ اور گھی پتھروں پر انڈیلتا ہے یا قبروں کو عرق گلاب سے نہلاتا ہے، کوئی راکھ مَلتا ہے، وغیرہ۔
یہ اور ایسے دیگر حربوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ توہمات پکے ہو جائیں تو عقیدہ اور ایمان بنتے ہیں، اور جب عقیدہ اور ایمان منظم شکل اختیار کر لے تو آئیڈیالوجی بنتا ہے جس کو آپ لوگوں سے دور رہنے میں استعمال کر سکتے ہیں۔ انسانی زندگی بہت مجرد ہے، اور کوئی بھی ہوش میں نہیں رہنا چاہتا۔ نشہ اور عبادت، سیکس اور ریاضت قدیم بت پرستوں کے دور سے چلے آ رہے ہیں اور اب تک اُنھوں نے محض اپنا روپ ہی بدلا ہے۔ سیٹرن اور مارس، جوپیٹر اور دیگر بھی تو دیوتا تھے؟ سائنس دانوں نے بھی جب خلائی مشنز کے نام رکھے تو اپالو، آرتمس وغیرہ سے رجوع کیا۔
لیکن اِن لوگوں کی حرکات دیکھ کر کچھ لوگوں کو خاص کوفت ہوتی ہے جن میں میں بھی شامل رہا ہوں، لیکن اب نہیں۔ ہم شعور، عقل، استدلال اور ہوش مندی کو سارے انسانوں کے لیے یکساں طور پر تصور کرتے ہیں جو بہت بڑی غلطی ہے۔ ہمیں اور آپ کو ٹریکٹر یا ہل چلانا نہیں آتا، ہم بیلچہ یا چھری نہیں بنا سکتے، ہم ہوائی جہاز نہیں اُڑا سکتے، یا تندور میں روٹی لگانا نہیں جانتے۔ ہزاروں ایسے کام ہیں جو ہم نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنے چاہئیں۔ ہم نے اور آپ اپنے ذمے سوچنے اور غور کرنے کا کام لیا ہے۔ ہم کتابیں پڑھتے اور انسانی ذہن کی میراث کو تھوڑا تھوڑا آگے بڑھاتے ہیں۔ ہم آرٹ اور ادب کو کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تعلیم کا حصہ ہیں، چاہے یہ حصہ ناقابلِ محسوس حد تک چھوٹا ہو۔
اب میرا خیال ہے کہ جو لوگ عقیدے یا ضعیف عقیدے کے لیے پاگل ہوتے ہیں، اُنھیں عقیدے کے لیے پاگل ہی رہنے دینا چاہیے۔ انفرادی سطح پر ہم نے ٹھیکہ نہیں لیا کہ اُنھیں ’’سمجھاتے‘‘ پھریں۔ کسی کو اپنے جسم سے خون بہا کر دیوتا پر نثار ہونا ہو تو سو مرتبہ ہو۔ کیا ضرورت ہے کہ پہلے خود بہت کچھ unlearn کریں، پھر دوسروں کی منتیں کریں کہ تم بھی unlearn کرو۔ کیوں بھئی؟ ایک خاتون نے رابطہ کیا کہ اُسے اپنی زندگی میں کوئی کمی لگتی ہے، حالانکہ کوئی کمی نہیں! دو چار میسیجز کے بعد اُس سے یہی کہا کہ محترمہ میں آپ کی بات سننے اور رائے دینے کو تیار ہوں، لیکن کھدائی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ جس نے سیکھنا ہے یا سیکھی ہوئی چیزوں کو ادھیڑنا ہے، وہ خود فیصلہ کرے۔ کوئی دوسرا شخص محض راہنمائی یا اپنی مثال پیش ہی کر سکتا ہے۔ ’’آپ میرے mentor ہیں‘‘ کہنا ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
لہٰذا جو عبادت، نشے، بھنگ، چرس، سرخ کوئلوں، گنڈے تعویذ میں مست ہیں، اُنھیں وہیں رہنے دینا چاہیے۔ اور غور یہ کرنا چاہیے کہ آپ نے جو کام یا شغل یا شوق اپنایا ہے، اُس میں ترقی کرنے کے قابل ہیں یا نہیں؟ کیا ہم روایات کو اپنی ذاتی سطح تک ادھیڑ سکتے اور اپنے جیسوں سے کنیکٹ ہو سکتے ہیں؟ اور کسی کو نقصان پہنچائے بغیر اِس عمل میں کسی کو مددگار ٹولز دے سکتے ہیں؟ پاگلوں یا وحشیوں یا دیوانوں نے اپنی ہر چیز کا ٹھیک ٹھیک حساب لگایا ہوتا ہے۔ اُن کے ساتھ وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ شعور کو اپنی اقلیم سمجھنے والوں کے سوا اکثر کی زندگی بہت مختصر ہے۔