میرا پس منظر بیک وقت نہایت سادہ اور انتہائی الجھاؤ زدہ بھی ہے۔ میں ٹرینی ڈیڈ (Trinidad) میں پیدا ہوا جو وینزویلا کے عظیم دریائے اورنیکو کے دہانے پر چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ چنانچہ ٹرینی ڈیڈ نہ قطعی طور پر جنوبی امریکہ میں ہے اور نہ کیریبیئن میں۔ یہ نئی دنیا کی ایک پلانٹیشن کالونی کے طور پر بسایا گیا، اور 1932ء میں میری پیدائش کے وقت یہاں کی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی۔ اِس میں سے تقریباً 1,50,000 ہندوستانی تھے، ہندو اور مسلمان دونوں، تقریباً سبھی کسان پس منظر رکھنے والے اور سبھی گنگا کے میدان سے آئے ہوئے۔
یہ تھی میری چھوٹی سی کمیونٹی۔ ہندوستان سے تارکین وطن کا ریلہ 1880ء میں آیا۔ معاہدہ کچھ یوں تھا۔ لوگوں نے پانچ سال تک جاگیروں پر خدمات انجام دینے کا وعدہ کیا۔ اس مدت کے اختتام پر اُنھیں غالباً پانچ ایکڑ کا ایک ایک قطعۂ اراضی دیا گیا یا پھر ہندوستان واپس جانے کی اجازت دی گئی۔ 1917ء میں گاندھی اور دیگر کی احتجاجی تحریک کی وجہ سے اقرار ناموں کا نظام ختم کر دیا گیا۔ اور شاید اسی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے بعد میں آنے والے متعدد لوگوں کے ساتھ اراضی دینے یا وطن واپس بھجوانے جانے کا وعدہ پورا نہ ہوا۔ یہ لوگ بالکل بے سہارا تھے۔ وہ دارالحکومت پورٹ آف سپین کی گلیوں میں سوئے۔ میں نے بچپن میں اُنھیں دیکھا۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اُن کے بے وطن ہونے کا علم نہیں تھا، غالباً یہ تصور بہت بعد میں میرے ذہن میں آیا۔ اور اُنھوں نے میرے ذہن پر کوئی اثرات مرتب نہ کیے۔ یہ پلانٹیشن کالونی کے ظلم کا ایک حصہ تھا۔
میری پیدائش چھوٹے سے قصبے Chaguanas میں ہوئی جو گلف آف پاریا سے دو یا تین میل اندر ہے۔ Chaguanas ایک انوکھا نام تھا، سپیلنگ اور تلفظ دونوں اعتبار سے۔ اُس علاقے میں رہنے والے اکثریتی ہندوستانی اِسے ایک ہندوستانی ذات چوہان کہا کرتے تھے۔
مجھے اپنی جائے پیدائش کا نام 34 سال کی عمر میں پتا چلا۔ میں لندن میں مقیم تھا، اور انگلینڈ میں رہتے ہوئے مجھے 16 سال ہو چکے تھے۔ میں اپنی نویں کتاب لکھ رہا تھا۔ یہ ٹرینی ڈیڈ کی تاریخ تھی، ایک انسانی تاریخ۔ میں لوگوں اور اُن کی کہانیوں کو دوبارہ سے تخلیق کرنے کی کوشش میں تھا۔ میں اُس خطے کے متعلق ہسپانوی دستاویزات کا مطالعہ کرنے برٹش میوزیم جایا کرتا تھا۔ ہسپانوی آرکائیوز سے بازیاب کی گئی یہ دستاویزات 1890ء کی دہائی میں برطانوی حکومت کے لیے نقل کی گئیں جب وینزویلا کے ساتھ ایک شدید سرحدی تنازعہ چل رہا تھا۔ دستاویزات کا آغاز 1530ء میں اور اختتام ہسپانوی ایمپائر کے معدوم ہونے پر ہوا۔
جب میں لکھاری بنا تو اپنے گرد بچپن کے وہ تاریک گوشے ہی مرا موضوع بنے۔ دھرتی، مقامی لوگ، نئی دنیا، نوآبادی، تاریخ، ہندوستان، مسلم دنیا (جس کے ساتھ میں خود کو منسلک محسوس کرتا تھا)، افریقہ اور پھر انگلینڈ (جہاں میں لکھ رہا تھا)۔ جب میں نے کہا کہ میری کتابیں ایک دوسرے پر کھڑی ہیں اور میں اپنی کتب کا مجموعہ ہوں تو میری یہی مراد تھی۔ اُس وقت میرا مطلب یہی تھا جب میں نے کہا کہ میرا پس منظر، میرے کام کا منبع اور محرک بیک وقت انتہائی سادہ اور نہایت پیچیدہ بھی تھا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ چگوآناز کے قصبے میں سب کچھ کتنا سادہ تھا۔ اور میرے خیال میں آپ سمجھ لیں گے کہ میرے لیے بطور لکھاری یہ کتنا الجھاؤ زدہ تھا۔ بالخصوص ابتدا میں، جب میرے ادبی ماڈلز — جو دکھاوے کی تعلیم کی بدولت ملے — کا تعلق مکمل طور پر مختلف معاشروں سے تھا……۔
میں نے کہا کہ میں بصیرت سے کام لینے والا مصنف ہوں۔ ایسا ہی تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے جب میں اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہوں۔ میں نے کسی طے شدہ نظام کے مطابق عمل نہ کیا۔ میں وجدان سے کام لیتا۔ کوئی بھی کتاب لکھتے وقت میرا ہدف کچھ ایسا تخلیق کرنا ہوتا کہ جو پڑھنے میں آسان اور دلچسپ ہو۔ میں ہر ایک مرحلے پر محض اپنے علم، حسیت، ٹیلنٹ اور نظریۂ دنیا کے اندر رہ کر ہی کام کر سکتا تھا۔ ایک کے بعد دوسری کتاب کے ساتھ اِن چیزوں کی ترقی ہوئی۔ اور مجھے وہ کتب اس لیے استعمال کرنا پڑیں کیونکہ اُن موضوعات پر کوئی کتب موجود نہ تھیں جو مجھے مطلوبہ معلومات مہیا کرتیں۔ مجھے اپنے لیے دنیا کو واضح اور صریح بنانا تھا۔
Against Sainte-Beuve میں پراؤسٹ نے لکھا: ”اگر ہم میں ٹیلنٹ ہے تو ہم جو خوب صورت چیزیں لکھیں گے، وہ ہمارے اندر موجود ہیں، کسی دُھن کی یاد کی طرح جو ہمیں مسرت دیتی ہے، اگرچہ ہم اُس کے خاکے کو دوبارہ ذہن میں لانے کے قابل نہیں ہوتے۔ جو لوگ سچائیوں (جن سے وہ کبھی بھی واقف نہیں تھے) کی اِس دھندلائی ہوئی یاد کو دل میں بسائے ہوئے ہیں وہی باصلاحیت ہیں۔ ٹیلنٹ ایک قسم کا حافظہ ہے جو انجامِ کار اُنھیں یہ مبہم موسیقی اپنے قریب تر لانے کے قابل بنائے گا تاکہ وہ اِسے واضح طور پر سنیں اور نوٹ کر لیں……۔“ پراؤسٹ نے جس چیز کو ”ٹیلنٹ“ کا نام دیا میں اُسے قسمت اور بہت سی محنت کہوں گا۔
(نوبیل لیکچر سے اقتباس)
Yasir Jawad/یاسر جواد