جین زی کو خود پسند، نمائش پسند، ہلکی ذہنی قابلیت والے اور Low IQ کے حامل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی اسائنمنٹس چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے تیار ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وہ حقیقت کا ایک مسخ شدہ تصور بھی رکھتے ہیں۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ اِن سب خرابیوں کا باعث خود اُنھیں ہی قرار دیا جاتا ہے۔
جین زی کو اگر ٹیچر واٹس ایپ پر تھیسس سے لے کر اسائنمنٹس کی ہدایات دیتا اور خود ایک طرف ہو جاتا ہے، اگر وہ لیکچر دینا ہی بھول گیا ہے، اگر وہ طلبہ کو کتابیں پڑھنے پر مائل نہیں کرتا تو اِس کی وجہ سے جین زی کیسے موردِ الزام ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ جو فلمیں اور آئٹم سونگز وہ دیکھ کر جوان ہوئے، اُن کی ’’تخلیق‘‘ تو جین زی نے نہیں کی۔ اساتذہ کی جہالت بھونڈی ایکسٹشن کے ذمہ دار صرف وہ کیسے ہو گئے؟
بے بی ڈول میں سونے دی اور اُس پر رقص کرنے والی اداکارائیں یا رقاصائیں بھی جین زی سے تعلق نہیں رکھتیں، مثلاً نورا فتحی۔ یہ گانے ہو سکتا ہے کہ گلزار یا جاوید اختر نے لکھے ہوں۔ یا اِنھیں فلمایا شاید مہیش بھٹ کی پیڑھی کے کسی ڈائریکٹر نے ہو۔ اور ڈانس کی ہدایات بھی کسی سروج خان نے دی ہوں۔ جین زی کو شاہ رخ خان، سلمان اور عامر خان سے لے کر بے شمار فنونِ لطیفہ پچھلی جنریشنز سے آئے ہیں۔
زندگی کو مسخ کرتی ہوئی ٹیکنالوجی بھی اُن کی پیداوار نہیں۔ وہ پچھلی نسلوں کے ایلن مسک جیسوں کی حرکات کا نشانہ ہیں۔ اگر پچپن سال کا پروفیسر جاہل ہے اور طلبہ کی ٹھیک سے راہنمائی کرنے کی بجائے محض نوکری کرتا ہے تو طلبہ کیسے ذمہ دار ہو گئے؟
شاید تھوڑے سے زیادہ عمر کے ہو چکے لوگوں کے پاس اپنی برتری ثابت کرنے کا ایک یہی ہتھیار باقی ہے۔ جین زی روایتی نہیں، کیونکہ اُنھوں نے پرانے اخلاقی رویے ترک کر دیے، یا نئے سماجی حالات نے اُنھیں ترک کروا دیا۔ 1997ء میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ تھی، اب 26 کروڑ ہے۔ ملک میں اکاؤنٹس سے لے کر انڈسٹری اور بینکوں وغیرہ تک ہر جگہ پر ملازمتوں کے مواقع کم رہ گئے ہیں۔
جین زی انفوٹینمنٹ اور ’’نالج‘‘ انڈسٹری کی وجہ سے یونیورسٹی کے پراسپکٹس کو بطور مینیو کارڈ دیکھنے پر مجبور ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر میں بی ایس کے بعد ایم فل اور پھر پی ایچ ڈی بھی کر لوں تو اپنے ساتھیوں پر برتری حاصل ہو گی اور جاب بھی مل جائے گی۔ لیکن جابز متواتر گھٹ رہی ہیں۔ شاید ہی کسی کو ذاتی سفارش یا تعلق کے بغیر نوکری اور ترقی ملتی ہو۔
آج کے نوجوان ایک خوف ناک صورت حال سے دوچار ہیں۔ ایسے میں خود اُنھیں ہی ایسا ہونے کے طعنے دینا درست نہیں۔ میں نے خود 1960ء کی دہائی کے ایک رسالے میں پڑھا تھا کہ ’’آج کل کی عورتیں لاپروا ہو گئی ہیں اور روایات پر عمل نہیں کرتیں۔‘‘ 1927ء کے قریب ایک اخبار کا تراشا بھی پڑھا تھا جس میں ’’اچھی‘‘ اور بُری عورت کا شیڈول بتایا گیا تھا۔ البتہ دونوں سوتی دس بجے ہی تھیں۔ اب بری اور اچھی دونوں عورتیں ہی دو تین بجے سے پہلے نہیں سوتیں، چاہے اُن کا تعلق جین زی سے ہو یا جنریشن ایکس سے۔
مجھے جین زی سبب سے زیادہ ہدف یا victim لگتے ہیں۔ اگر اُن کے پاس کھیلنے کے گراؤنڈز یا اچھے ٹیچرز نہیں ہے تو وہ اُن کا قصور نہیں۔