ہمارے بچپن میں جب ویڈیو گیمز کی وبا آئی تو ساری ماؤں کو اپنے گمشدہ بچے وہیں سے ملتے تھے۔ میرے ایک کزن کے دوست نے بھی کاروبار شروع کیا تو میں کھیلنے گیا۔ کئی بار اُس نے مشین کے نچلے حصے میں ٹوکن گرنے کی جگہ پر ہاتھ لگا کر بیس تیس ٹوکن کر دیے۔ اور میں دو چار مرتبہ کھیل کر واپس آ گیا۔ ورنہ بچے ایک ایک ٹوکن کے لیے ترستے تھے۔ کچھ امیر بچوں کے گھروں میں اٹاری نامی گیم ہوتی تھی جسے وہ اپنے ٹی وی کے ساتھ کنیکٹ کر لیتے اور ویڈیو گیمز کھیلنے نہیں آتے تھے۔

بعد کی ترقیاں آپ اور ہم میں سے زیادہ تر لوگ جانتے ہیں۔ لیکن آج میں نے جین ایلفا کے پندرہ سالہ نوجوان کو پب جی کھیلتے ہوئے پہلی بار دیکھا ہے۔ اُس میں کوئی اور بھی پلیئر ہوتا ہے، اور آپ ساتھ ساتھ بولتے بھی ہیں۔ فون چہرے کے سامنے، اور چہرہ فون کے آگے۔ میں نے دلچسپی کی خاطر پوچھا کہ اِس میں کیا ہوتا ہے؟ اُس نے بتایا کہ اور کھلاڑی بھی ہوتے ہیں، اُن کے ساتھ مائیک پر بات کی جاتی ہے، پاکستانی بھی بہت سے ہیں، اور لڑکیاں لڑکے دونوں ہوتے ہیں۔

سن تو رکھا تھا مگر دیکھا پہلی بار۔ یہ بھی پتا چلا کہ اِس کا کوئی انعام وغیرہ نہیں ملتا۔ بس پوائنٹس ہی سکور کرنا ہوتے ہیں۔ لیکن اِس کے لیے اکاؤنٹ لینا ہوتا ہے۔ اکاؤنٹس دو تین یا پانچ لاکھ کے بھی ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنا اکاؤنٹ بنا لیں اور اُس کو مقبولیت ملے تو بعد میں وہ بیچ بھی سکتے ہیں۔ لیکن گیم میں زیادہ تر اسلحے کے ذریعے لڑائی شامل ہے۔ سو سو لوگ بھی مل کر کھیلتے ہیں اور سکواڈ بھی بنائے جاتے ہیں۔ یہ سب میرے لیے بالکل نئی باتیں تھیں، اور جین ایلفا کو دیکھ کر جین زی زیادہ سمجھ دار لگنے لگے ہیں۔

ویسے بچہ بہت اچھا، سمجھ دار اور باتمیز ہے۔ بہت زیادہ وقت بھی گیم پر خرچ نہیں کرتا۔ دماغ اگر ویڈیو گیم کھانے لگے تو ضروری نہیں کہ بچے بدتمیز اور نکمے ہی بنیں، لیکن اُن کے اندر غیر ضروری جارحیت جمع ہوتی رہتی ہے۔ اب اِس پر ہمارے سیکھے ہوئے کوئی اصول، ضابطے اور اخلاقیات لاگو نہیں ہوتیں۔ یہ بالکل الگ دنیا ہے، اور اِس کا کوئی انت نہیں ہونے والا۔ دس بارہ کمپنیاں اور چند ویب سائیٹس نے انسان کا حلیہ بدل دیا ہے۔ ایکس والے صاحب نے پورن کو بھی انٹیگریٹ کر لیا ہے، لہٰذا اب پورن سائیٹس کی ضرورت ہی کم ہو گئی ہے۔ ریزولیوشن اچھا نہ سہی، لیکن حسب ضرورت مسالہ مل ہی جاتا ہے۔

مستقبل سے ڈرنا نہیں چاہیے، لیکن اِس سے کوئی اچھی اُمید بھی نہیں رکھنی چاہیے۔ اور اِس پر کوئی اخلاقی رائے دینا تو بالکل ہی غیر ضروری ہے۔

Yasir Jawad

شیئر کریں