قوم پرست بننے کا آسان ترین طریقہ سیدھا سادا بھی ہے۔ سب سے پہلے تو اپنے گروپ، شہر، صوبے، ’’نسل‘‘ یا لسانی گروہ کے نہایت غریب، پسماندہ، استحصال زدہ، لاچار اور بے کس ہونے کا اعلان کریں۔ زور دے کر بتائیں کہ آپ کے تمام وسائل لُٹ چکے ہیں یا لُوٹے جا رہے ہیں، آپ کا وجود اور شناخت خطرے میں ہے۔ آپ کی زبان کو باقاعدہ سازش کے تحت مٹایا جا رہا ہے، وغیرہ۔ نیز یہ کہ آپ کو اقتدار میں بھی جائز حصہ نہیں دیا گیا۔ (یہ ’’آپ‘‘ کون ہے، اِس کا تعین بعد میں ہوتا رہے گا)۔ البتہ یہ بتانا مت بھولیں کہ اِن سب مظالم اور زیادتیوں کے باوجود ایک شعور اور عقل ہی ایسی چیز ہے جو بالکل صحیح سلامت رہی اور آپ کا ری ایکشن اُسی عقل کی پیداوار ہے۔
جب آپ خود کو استحصال زدہ مان لیں اور منوانے کی کوشش کر لیں تو دوسرا مرحلہ یہ بتانا ہو گا کہ یہ کام کیا کس نے۔ اِس کے لیے آپ کو اپنی مرضی کی تاریخ ایجاد کرنا پڑے گی تاکہ آپ بتائیں کہ استحصال کون کر رہا ہے اور کون کچل رہا ہے۔ تاہم، اِس کام کے لیے آپ کو سورسز اُنھی کے استعمال کرنا پڑیں گے جو لوٹتے رہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ دریاؤں، پہاڑوں، معدنی ذخائر وغیرہ کے مالک آپ ہیں، لیکن دوسروں نے اِن پر قبضہ کر لیا اور بے دردی سے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ یہاں آپ کو Lived experience یعنی اپنے محسوسات کو بنیاد بنانا پڑے گا۔
قومی پرستی کے لیے ایک گہری سازش کو گھڑنا ضروری ہے۔ سارے تاریخی عمل میں اقوام، قبیلے اور علاقے ایک دوسرے کو مارتے کاٹتے، لوٹتے یا دباتے رہے۔ رنجیت سنگھ آج ہمارا ہیرو بنایا جا رہا ہے (جنگ و جدل کی بنیاد پر)، حالانکہ اُسی نے انیس سال کی عمر میں سب سے بڑی کامیابی لاہور کو فتح کرنے کی شکل میں پائی جہاں غالباً بھنگی مسل کا قبضہ تھا۔ اُس نے توپوں سے فصیلوں پر گولہ باری کروائے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن اندر موجود لوگ ساتھ ملے ہوئے تھے۔ چیت سنگھ کے غدار رنجیت سنگھ کے معتمد بن گئے۔ یہی کام اُس نے ملتان میں بھی کیا۔ لیکن ’’پیپلز ہسٹری‘‘ لکھنے کے داعی اپنے آبائی ضلعے کی مناسبت سے اُس کے حامی یا مخالف بن گئے۔ اور یہ حمایت یا مخالفت اِس حد تک جا پہنچی کی اِس بنیاد پر ’’تاریخ‘‘ بھی لکھی جانے لگی ہے۔
تاریخ کو اخلاقی بنیادوں پر لکھنا اُس کو مقصد کھو دیتا ہے۔ مؤرخ اخلاقی فیصلے دینے لگے تو تاریخ کو اُسی طرح مسخ کرنا پڑے گا ہمارے ہاں کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ بہت مزے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ یا بلوچستان کے جس بھی علاقے کا ذکر ہو، وہاں سے سکندر اعظم کا گزرنا یقینی بتایا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تہذیب کا آغاز ہی یہاں سے ہوا تھا۔ عام بیانیے کے مطابق دیپالپور، جہلم، ہڑپہ، ملتان، لاہور، گجرات وغیرہ سبھی تہذیب کے ’’گڑھ‘‘ تھے۔ اور حرامی انگریزوں نے اس تہذیب کو خراب یا برباد کر ڈالا۔ اور یہ بھی یقین ہے کہ ہر جگہ کی تہذیب پانچ ہزار سال پرانی تھی۔ اچھا، اگر کوئی تہذیب ساڑھے تین ہزار یا دو ہزار سال پرانی ہو تو وہ کمتر ہو جائے گی؟
پہلے دوسرے محرومی زدہ صوبوں کے لوگ اِس طرح کے دعوے کیا کرتے تھے، اور اب کوئی دس سال سے پنجابی بھی میدان میں اُترنے لگے ہیں۔ یہ تاریخ نگاری کے نام پر جذباتی اور ری ایکشنری پمفلٹ بازی ہیں۔
Yasir Jawad/یاسر جواد