اڑھائی انچ چوڑے، اڑھائی انچ لمبے اور اڑھائی سو صفحات کی یہ ایک انچ موٹی کتاب میری بیٹی لے کر آئی ہے جو اُس نے دو ہفتے کے لیے لندن جانے پر برٹش میوزیم سے خریدی تھی۔ وہ میرے لیے کافکا کا بَیج، لان کے لیے مختلف طرح کی چیزیں اور میز پر رکھنے کے لیے کئی مجسمے بھی لائی ہے۔ بڑی بیٹی اپنی علیحدہ شخصیت رکھتے ہوئے باپ کا عکس اور ایکسٹنشن ہوتی ہے، اسی لیے اُس کے ساتھ لڑائی بھی شدید ہوتی ہے۔ اگر ہم خود کو وقت دیں اور اُنھیں اپنی ’’ایکسٹنشن‘‘ سمجھ کر بنے بنائے تصورات اُن پر تھوپنے کی کوشش نہ کریں تو بہترین ہے۔
میں نے ایسے دوستوں کو دیکھا ہے جو بیٹیوں کے بڑے ہونے پر کئی طرح کے ہذیانی خیالات کا شکار ہوئے۔ ایک نے اپنی بیٹی کے بڑا ہونے پر اُسے مذہبی اندازِ تعلیم والے ایک سکول میں داخل کروا دیا۔ دوسرا دوست بیٹی کا اتنا خیال رکھتا ہے کہ اُسے سانس بھی اپنی مرضی سے نہیں لینے دیتا۔ نتیجتاً وہ ہر کام وہ کرتی ہے جس میں باپ کی دلچسپی ہو یا باپ راہنمائی کر سکتا ہو۔ ایک اور جاننے والا اُنھیں پڑھانے کے لیے اِس قدر فکرمند ہے کہ ٹی وی اور فون تک نہیں دیتا۔ ایک اور دوست کے دوست نے اپنی بیٹی سے اشٹام پیپر پر راست رویے کا وعدہ لکھوایا۔ ان سبھی کی بیٹیاں کل کو کامیاب ہو سکتی ہیں، اور کوئی فارمولا موجود نہیں کہ کون کیسی رہے گی۔ ہو سکتا ہے کہ جن کا باپ ٹی وی اور فون کی اجازت نہیں دیتا، کل کو وہ سی ایس پی آفیسر بن جائیں اور اپنے باپ کی ’’محنت اور کیئر یا سختی‘‘ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں۔
بچوں کی تربیت کے اصولوں کی کوئی حتمی فہرست نہیں بنائی جا سکتی۔ ایک ہی گھر اور ایک ماحول میں، ایک جیسے جھگڑالو، بے تعلق یا پُرمحبت ماں اور ایک جیسی مالی حالت میں جنم لینے والے اور عمر میں دو سال کا فرق رکھنے والے بچے بالکل مختلف شخصیات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اصول بس یہی ہو سکتا ہے کہ: تم ہمارے تجربے سے سیکھو (اعلان کیے بغیر) اور ہم تمھارے تجربات سے سیکھتے ہیں۔ ہماری طرح تم بھی غلطیاں کر سکتے ہو اور تمھاری طرح ہم بھی درست فیصلے کر سکتے ہیں۔ اگر اِسے دو طرفہ تربیتی عمل سمجھ لیا جائے تو بہتر ہے۔
یقیناً میں بھی اِس راہنما ’’اصول‘‘ سے منحرف ہوا اور آپ یا آپ کے والد صاحب بھی اپنی بیٹیوں کے سلسلے میں منحرف ہوئے ہوں گے۔ لیکن زیادہ تر لوگ اکیلے میں بیٹھ کر اور اپنے تعصبات یا سیکھے ہوئے رویوں کو ایک طرف رکھ کر ترمیم و تبدیلی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ ایک طرح سے عقیدے والا معاملہ ہے۔ لیکن اِس کا تنقیدی جائزہ کفر نہیں۔
Yasir Jawad