16 مئی 1976ء: شمالی آئرلینڈ میں نوجوان برطانوی مسلح گاڑی پر بوتلیں اور پتھر مار رہے ہیں۔ یہ برطانوی حکومت کے خلاف مہم کے سلسلے میں احتجاج ہو رہا تھا۔ 1960ء کی دہائی کے آخری برسوں سے لے کر 1990ء کی دہائی تک شمالی آئرلینڈ کی آئرش کیتھولک اقلیت نے پروٹسٹنٹ یونینسٹ اکثریت (برطانوی فوج سے حمایت یافتہ) کے خلاف مظاہرے کیے۔

کبھی کوئی رعایا یا عوام حکومت سے پوری طرح خوش نہیں ہوتے۔ اگر کوئی حکومت 60 فیصد ووٹوں سے بنے تو تب بھی 40 فیصد کا گلا نہیں گھونٹنا چاہیے۔ مہذب معاشروں میں لوگ آتے ہیں، احتجاج کرتے، نعرے لگاتے، اپنی بے چینی اور ناراضگی کا اظہار کرتے اور منتشر ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی بیس پچیس سال پہلے تک ایسا ہوا کرتا تھا۔ ریلوے اور واپڈا میں کئی طرح کی یونینز تھیں، کلرکوں کی یونین (ایپکا) اور اساتذہ کی یونین اور فیڈریشنز کے علاوہ بھی بہت سی تنظیمیں موجود تھیں۔ سیاسی جماعتیں بھی عوامی مسائل (مثلاً لوڈ شیڈنگ، مہنگائی) پر احتجاج کیا کرتی تھیں۔ اب یہ کام صرف جماعتِ اسلامی کرتی دکھائی دیتی ہے، حالانکہ یہ ساری سیاسی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے بنی تھی۔

اب جو سیاسی جلوس اور جلسے ہوتے ہیں اُن میں حکومت گرانے سے کم کوئی بات ہی نہیں کی جاتی اور سیدھا سیدھا ریاست پر تنقید کی جاتی ہے۔ ہر کوئی پھانسیوں اور جیلوں کا متمنی ہو گیا ہے۔ کیونکہ یہ اُن کی فوری تسکین کی عادات کے عین مطابق ہے۔

دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں ٹیلی وژن پروگراموں میں ایک ہزار یا پندرہ سو لوگوں کو گولی سے اُڑانے کی بات کرتے ہیں۔ میڈیا فوراً کسی بھی احتجاجی گروپ کے خلاف رائے ’’ہموار‘‘ یا بلڈوز کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اِس طرح خفگی کبھی ختم نہیں ہوتی، بلکہ دبائے جانے سے مزید بڑھتی اور معاشرے کو مسخ کرتی ہے۔

جس طرح آپ ٹریجک ڈرامے دیکھتے، دو آنسو بہاتے اور گھر واپس آ جاتے ہیں، اُسی طرح سیانی حکومتیں بھی کر سکتی ہیں۔ لوگ جلسہ کریں، مظاہرہ کریں، اور گھروں کو واپس جائیں۔ دفعہ 144 جیسے بھونڈے قوانین لوگوں کو مزید مشتعل کرتے ہیں اور لاٹھی چارج مزید سیاسی کارکن پیدا کرتا ہے۔ جواب میں سیاسی کارکن بھی فاشسٹ بن گیا ہے۔

ارباب اختیار اگر اِس کامن سینس بات کو سمجھ لیں تو شاید کچھ سکون حاصل ہو۔ احتجاج کو حق کی بجائے دبے ہوئے جذبات اور ناراضگی کی نکاسی کا طریقہ بھی تو سمجھا جا سکتا ہے۔ ورنہ اب نوجوان کے پاس ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلانے یا موڈیفائیڈ گاڑیوں میں ریسیں لگانے کے سوا اپنے اظہار کا کوئی طریقہ نہیں رہا۔

Yasir Jawad/یاسر جواد

شیئر کریں