بیسویں صدی یا جدید دور میں ’’انگلش‘‘ ادب کا جائزہ کچھ نہایت عجیب رجحانات سامنے آتا ہے۔ اگر ہم بیس پچیس سرکردہ ناموں کی فہرست بنانا چاہیں تو پہلے دس ادیبوں میں یہ شامل ہوں گے:
ٹامس ہارڈی (ڈارچیسٹر)، جوزف کونرڈ (پولش)، ای ایم فارسٹر (لندن)، ییٹس (ڈبلن)، ورجینیا وولف (لندن)، جیمز جوائس (ڈبلن)، ڈی ایچ لارنس (نوٹنگھم شائر)، ٹی ایس ایلیئٹ (نیو انگلینڈ)، کیتھرین مینزفیلڈ (نیوزی لینڈ)، جاروج آرویل (بنگال)۔ یعنی صرف چار ادیب ’’خالصتاً انگلش‘‘ ہیں۔ جیمز جوائس اور ییٹس جیسے بڑے انگلش ادیب آئرش تھے اور عمر کا کافی حصہ ڈبلن میں ہی گزارا۔
اِس کے بعد اگلے دس یہ شمار کیے جا سکتے ہیں: سیموئیل بیکٹ (ڈبلن)، ڈبلیو ایچ آڈن (یارک، انگلینڈ)، ڈلن تھامس (ویلز)، نیڈین گورڈیمر (جنوبی افریقہ)، ڈیرک والکاٹ (ویسٹ انڈیز)، ٹیڈ ہیوز (یارک شائر)، فلپ لارکن (انگلینڈ)، ہیرلڈ پنٹر (لندن)، ڈورِس لیسنگ (فارس) اور ایلس منرو (اونٹاریو)۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں بچپن اور جوانی گزارنے والے یہ ادیب بھی فارس اور اونٹاریو سے آئے ہوئے عناصر کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
اگر آپ 1950ء کے بعد سے لے کر اب تک کے سرکردہ انگلش ادیبوں کے نام لینا شروع کریں تو چھے سات فوراً پہچان لیں گے: چنہوا اچیبے (نائجیریا)، مارگریٹ ایٹ ووڈ (اونٹاریو) جے ایم کوتزی (جنوبی افریقہ)وی ایس نے پال (ٹرینی ڈیڈ) کازو اشیگورو (جاپان)، ٹام سٹوپارڈ (چیکوسلوواکیہ)، حنیف قریشی (پاکستان)، اور ہندوستان کا ملعون رشدی، کرن ڈیسائی (ہندوستان) اور زیدی سمتھ (جمیکائی ماں)۔ یہیں سے حیرت کا آغاز ہوتا ہے۔ تقریباً سبھی ادیب لفظ کے لغوی مفہوم میں ’’انگلش‘‘ نہیں ہیں۔ یقیناً درجنوں دیگر بھی ہوں گے، لیکن سرکردہ یہی ہیں جن کا ذکر انگلش ادب کی تاریخ میں بھی ملتا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ برطانوی ایمپائر ڈی 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں اپنی کالونیوں کو آزاد کرتے ہوئے ادبی اعتبار سے خود کالونی بن گئی۔ لہٰذا کیریبیئن اور ہندوستان یا افریقہ سے آئے ہوئے سکول کے بچوں نے جب ڈیفوڈلز اور برف باری پر لکھا تو وہ اُن کے تجربے میں نہیں تھی۔ بالکل اُسی طرح جیسے غالب دشت، بیاباں اور بحر سے واقف نہیں تھا۔ شاید، ہو سکتا ہے، ممکن ہے کہ وہ اِسی لیے یہ استعارے زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کر پائے۔ آخر شاعری بالخصوص اور نثر بالعموم زبان کو بیگانہ بنانے کا عمل ہی تو ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جواز نہیں کہ لکھنے کا عمل زبان کو بیگانگی عطا کرتا ہے۔
انگلش ادب میں بیگانگی برطانوی ایمپائر کی سمیٹی ہوئی نسلی رنگا رنگی سے مزین ہے۔ آپ سماجی تجربہ شیئر کیے بغیر بڑا یا قابلِ ذکر ادب تخلیق نہیں کر سکتے۔ یورپی اور امریکی معاشروں نے ’’غیروں پر‘‘ اپنے دروازے بند نہیں کیے، اور ہر جگہ کے انوکھے پن کو جگہ دی۔ ہمارے ملک میں تو چھوٹی سی جگہ پر ہی اتنی رنگارنگی اور ثقافتی تنوع ہے کہ بندہ حیران رہ جائے۔ بڑے شہروں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کو مختلف زبانیں اور تجربے اور انداز ہائے حیات مل جائیں گے۔
اس مضمون یا پوسٹ کے ساتھ ہی انگلش ادب کا جائزہ مکمل ہوتا ہے۔ بس ایک حنیف قریشی کا تجربہ جلد ہی بیان کرنا چاہوں گا۔ پھر ہم اکیسویں صدی میں نوبیل انعام یافتہ ادیبوں کے نوبیل خطبات کا خلاصہ ملاحظہ کریں گے۔ امید ہے کئی لوگوں کو بوریت ہو گی۔
Yasir Jawad